Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلڈ شوگر توازن میں رکھنے کے لیے ڈنر کے بعد واک کب اور کتنی دیر کریں؟

بہترین نتائج کے لیے کھانا کھانے کے بعد جتنی جلد ممکن ہو اور بہتر طور پر آدھے گھنٹے کے اندر چہل قدمی شروع کریں

کھانے کے بعد بلڈ شوگر کا بڑھ جانا ذیابیطس، ڈیمینشیا اور امرض قلب سمیت مختلف صحت کے مسائل کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے رات کے کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے اور اس میں اچانک اضافے کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔

رات کے کھانے کے کتنی دیر بعد چہل قدمی کرنی چاہیے؟

فوراً، مقصد یہ ہے کہ بلڈ شوگر (گلوکوز) کی سطح بلند ترین سطح تک پہنچنے سے پہلے جسمانی سرگرمی شروع کر دی جائے۔ عموماً کھانے کے 30 سے 60 منٹ بعد بلڈ شوگر اپنی بلند سطح کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

بہترین نتائج کے لیے کھانا کھانے کے بعد جتنی جلد ممکن ہو اور بہتر طور پر آدھے گھنٹے کے اندر چہل قدمی شروع کریں۔

ورزش کا وقت بلڈ شوگر کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ 

کھانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ رات کے کھانے کے بعد ورزش کرنے سے اس اضافے کو کم کرنے اور خون میں گلوکوز کو منظم رکھنے میں مدد ملتی ہے، خواہ کھانے سے پہلے بلڈ شوگر معمول پر ہو یا زیادہ۔

کھانے کے بعد ورزش کرنے سے جسم خون میں موجود گلوکوز کو پٹھوں کے خلیوں میں منتقل کرنے لگتا ہے۔ اس طرح بلڈ شوگر میں اچانک اضافے کو روکنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو توانائی بھی ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ذیابیطس میں بلڈ شوگر اچانک بڑھنے اور کم ہونے کی اصل وجہ بھی جان لیں

ورزش جسم کو انسولین کے لیے زیادہ حساس بنانے میں بھی مدد کرتی ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو پٹھوں کو گلوکوز جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چہل قدمی کے بعد انسولین کے لیے یہ بہتر حساسیت 24 گھنٹے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی کرنے سے جسم خون میں موجود گلوکوز کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔ اگر آپ چہل قدمی کے لیے زیادہ دیر انتظار کریں تو بلڈ شوگر پر ورزش کا فوری اثر نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔

کتنی دیر تک چہل قدمی کرنی چاہیے؟

تحقیق کے مطابق اگر کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی شروع کی جائے تو مختصر دورانیے کی واک بھی بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

حال ہی میں صحت مند نوجوان افراد پر کیے گئے ایک چھوٹے کلینیکل ٹرائل میں معلوم ہوا کہ کھانے کے فوراً بعد 10 منٹ کی چہل قدمی نے بلڈ شوگر کم کرنے میں اتنا ہی مؤثر کردار ادا کیا جتنا کہ کھانے کے 30 منٹ بعد کی جانے والی 30  منٹ کی چہل قدمی نے۔

ایک اور تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس والے عمر رسیدہ افراد میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے۔ اس تحقیق کے مطابق ہر کھانے کے بعد 10 منٹ چہل قدمی کرنا دن میں ایک مرتبہ 30

 منٹ چہل قدمی کرنے کے مقابلے میں بلڈ شوگر کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے میں مددگار تھا۔

کیا رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی سب کے لیے محفوظ ہے؟

رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے وقت ان حفاظتی نکات کو مدنظر رکھیں۔

آہستہ شروع کریں:

 اگر آپ باقاعدگی سے چہل قدمی کے عادی نہیں ہیں تو جسمانی سرگرمی کو بتدریج بڑھائیں۔ چند ہفتوں کے دوران رفتار اور فاصلہ آہستہ آہستہ بڑھائیں۔ مثال کے طور پر پہلے ہفتے میں روزانہ 3 سے 5 منٹ چہل قدمی سے آغاز کریں اور وقت کے ساتھ دورانیہ بڑھاتے جائیں۔ اس طرح چوٹ سے بچنے، جسمانی برداشت بڑھانے اور تھکن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

موسمی اور ماحولیاتی عوامل سے بچیں:

شدید گرمی اور نمی، ماحولیاتی الرجی، بہت ٹھنڈی ہوا اور حفاظتی مسائل بعض افراد کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں چہل قدمی مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے گھر کے اندر، مال میں یا ٹریڈمل پر واک کی جا سکتی ہے۔

گرنے سے بچاؤ:

 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ہفتے میں چند دن توازن اور لچک بہتر بنانے والی ورزشیں کرنی چاہئیں، مثلاً ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی مشق۔ اضافی حفاظت اور ساتھ کے لیے کسی دوست، خاندان کے فرد یا پڑوسی کے ساتھ چہل قدمی کرنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔

اگرچہ چہل قدمی زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ اور تجویز کردہ ہے، تاہم ایسے افراد کو ورزش شروع کرنے سے قبل بہتر حفاظتی رہنمائی کے لیے اپنے ڈاکٹر سےمشورہ کرنا چاہیے۔

وہ افراد جو ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلئر، چوٹ یا سرجری سے صحت یاب ہو رہے ہوں یا ایسی خواتین جو حال ہی میں مائیں بنی ہوں۔