امریکی سیاست میں ہار جیت کا فیصلہ اب صرف ووٹروں کی رائے تک محدود نہیں رہا بلکہ انتخابی نتائج پر کروڑوں ڈالر کی شرطیں بھی لگائی جا رہی ہیں، کانگریس، سینیٹ اور گورنروں کی نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کے امکانات نے سٹے کی آن لائن منڈیوں میں غیر معمولی ہلچل مچا دی۔
امریکا میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی پیش گوئی کی منڈیوں (Prediction Markets) میں کاروبار تیز ہوگیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر لوگ مختلف امیدواروں کی جیت، سیاسی جماعتوں کی اکثریت اور ایوانوں کے کنٹرول سے متعلق اپنے اندازوں کی بنیاد پر رقم لگارہے ہیں۔ اس کاروبار میں نمایاں نام کیلشی (Kalshi) کا ہے، جو امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ کمپنی اسے روایتی جوئے کے بجائے ایونٹ کنٹریکٹس کی خرید و فروخت قرار دیتی ہے۔
کیلشی کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 30 روز کے دوران انتخابی نتائج سے متعلق مختلف منڈیوں میں تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کا لین دین ہوا، جبکہ 31 اکتوبر کو ایک ہی روز میں تقریباً 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی سرگرمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک محدود نہیں بلکہ دیگر انتخابی منڈیاں بھی ان میں شامل ہیں۔
ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب ہونا ہے۔ سیاسی مقابلوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض اہم نشستوں پر انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ مالی داؤ بھی لاکھوں اور کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
کیلشی کی ایک بڑی منڈی میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول سے متعلق تقریباً 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کا کاروبار ہوا۔ اس وقت مارکیٹ کے اندازوں میں ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 93 فیصد جبکہ ری پبلکنز کو صرف 7 فیصد امکانات دیے جا رہے تھے۔
اسی طرح سینیٹ کے کنٹرول سے متعلق منڈی میں تقریباً 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی سرگرمی سامنے آئی، جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات 72 فیصد اور ری پبلکنز کے 28 فیصد ظاہر کیے گئے۔ سینیٹ کے حوالے سے ایک دوسری الگ منڈی میں بھی تقریباً 2 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کا کاروبار ریکارڈ ہوا۔
امریکی انتخابی سٹے میں سب سے زیادہ دلچسپی ٹیکساس کی سینیٹ نشست نے حاصل کر رکھی ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ ہے۔ اس ایک نشست پر تقریباً 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر داؤ پر لگائے جا چکے ہیں۔ کیلشی کے مارکیٹ تخمینوں میں ٹیلاریکو کی کامیابی کے امکانات 69 فیصد جبکہ پیکسٹن کے 31 فیصد بتائے گئے ہیں۔
ٹیکساس کو روایتی طور پر ری پبلکنز کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں ڈیموکریٹک امیدوار کے حق میں مارکیٹ کا جھکاؤ خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب ریاست کے گورنر کے انتخاب میں موجودہ ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا پر برتری حاصل ہے۔ اس مقابلے میں ایبٹ کی کامیابی کے امکانات 66 فیصد جبکہ ان کی حریف کے 34 فیصد ظاہر کیے گئے ہیں۔
مین کی سینیٹ نشست بھی سٹے بازوں کے لیے پرکشش انتخابی مقابلہ بن گئی ہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے درمیان اس معرکے پر تقریباً ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کا کاروبار ہوا۔ مارکیٹ کے مطابق جیکسن کی جیت کے امکانات 69 فیصد اور کولنز کے 31 فیصد ہیں۔
مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز، اوہائیو میں شیروڈ براؤن اور جان ہسٹڈ، آئیووا میں جوش ٹیورک اور ایشلے ہنسن جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل کے درمیان مقابلے بھی پیش گوئی کی ان منڈیوں میں زیر بحث ہیں۔ انتخابی مہم، عوامی سرویز اور امیدواروں کی مقبولیت میں تبدیلی کے ساتھ ان مقابلوں پر لگنے والی شرطوں کے امکانات بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
گورنروں کے انتخابات میں بھی کروڑوں ڈالر کی دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔ اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور ری پبلکن وویک راماسوامی کے مقابلے پر تقریباً 76 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کا کاروبار ہوا، جہاں ایکٹن کی کامیابی کے امکانات 79 فیصد اور راماسوامی کے 21 فیصد بتائے گئے ہیں۔
فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز اور ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی کے درمیان مقابلہ بھی ان منڈیوں کی توجہ کا مرکز ہے، جبکہ جارجیا، نیواڈا، کنساس اور دیگر ریاستوں کے گورنر انتخابات پر بھی مالی داؤ لگایا جا رہا ہے۔
یوں امریکا میں انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ایک متوازی مالیاتی منڈی بھی سرگرم ہے، جہاں امیدواروں کی مقبولیت اور سیاسی جماعتوں کی ممکنہ کامیابی کو فیصد اور ڈالر میں جانچا جا رہا ہے۔ تاہم ان منڈیوں میں ظاہر ہونے والے امکانات حتمی انتخابی نتائج یا عوامی رائے کا متبادل نہیں، بلکہ رقم لگانے والوں کے موجودہ اندازوں کی عکاسی کرتے ہیں۔


















