Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنسدانوں نے دنیا کے قدیم ترین پانسے دریافت کرلیے

یہ پانسے شمالی امریکا کے قدیم باشندوں نے آخری برفانی دور کے اختتام پر استعمال کیے تھے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے ممکنہ طور پر دنیا کے قدیم ترین پانسے دریافت کرلیے ہیں جن کی عمر 12 ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پانسے شمالی امریکا کے قدیم باشندوں نے آخری برفانی دور کے اختتام پر استعمال کیے تھے۔

یہ پانسے آج کے مشہور چوکور پانسوں جیسے نہیں جب کہ یہ دو رُخے یعنی دو طرفہ اشیا تھے جن کے ہر رخ پر مختلف نشانات تھے۔ انہیں پھینک کر قسمت آزمانے والے کھیلوں میں استعمال کیا جاتا تھا جیسے آج ہم سکہ اچھالتے ہیں۔

کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر رابرٹ میڈن نے ایک طریقہ کار وضع کیا۔ انہوں نے پہلے سے دریافت شدہ پانسوں کی چار خصوصیات کی نشاندہی کی اور پھر دیگر ممکنہ اشیا کا جائزہ لیا۔

پانسے کی درجہ بندی کے لیے یہ شرائط تھیں کہ وہ دو رُخے ہوں، لکڑی یا ہڈی کے بنے ہوں، ہر رخ رنگ یا نشانات سے مختلف ہو، ان کی سطح ہموار یا قدرے خم دار ہو اور سائز اتنا ہو کہ کھلاڑی ایک ہاتھ میں کئی پکڑ سکیں۔

میڈن نے 565 ایسی اشیا کی نشاندہی کی جو ان تمام شرائط پر پوری اترتی تھیں۔ مزید 94 اشیا ممکنہ پانسے قرار پائیں۔ یہ تمام اشیا شمالی امریکا کے 57 مختلف آثار قدیمہ کے مقامات سے ملی ہیں۔

سب سے قدیم پانسے تقریباً 12 ہزار 200 سے 12 ہزار 800 سال پرانے ہیں۔ ایک ممکنہ پانسہ 13 ہزار سال پرانا بھی ہوسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پانسوں کی قدیم ترین مثالیں صرف ساڑھے 5 ہزار سال پرانی ہیں۔ اس دریافت سے نہ صرف کھیلوں کی تاریخ بلکہ ریاضیاتی سوچ کی تاریخ بھی پیچھے چلی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ مورخین پانسوں اور قسمت کے کھیلوں کو کائنات کی غیر یقینی نوعیت کو سمجھنے کی ابتدائی کوششوں میں شمار کرتے ہیں۔

اگرچہ میڈن مانتے ہیں کہ یہ اشیا شاید قسمت جاننے کے لیے بھی استعمال کی گئی ہوں لیکن اس کے ثبوت کھیلوں کے مقابلے میں کمزور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ پانسے، قسمت کے کھیل اور جوا گزشتہ 12 ہزار سال سے مقامی امریکی ثقافت کا حصہ رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version