Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آٹھ پہیوں سے لیس آٹو موبائل تاریخ کی سب سے عجیب گاڑی

ریوز اورلینڈ آکٹو آٹو نامی اس گاڑی کو امریکی موجد ملٹن ریوز نے 1911 میں تیار کی تھی تھا

جس گاڑی میں آپ آج سفر کر رہے ہیں ماضی میں وہ اتنی باسہولت اور آرام دہ نہیں تھی۔

موجودہ سواری کی ابتدا میں ایک ایسی گاڑی بھی بنائی گئی تھی جس کے آٹھ پہیے تھے آکٹو آٹو کے نام سے جانے والی یہ گاڑی آٹوموبائل کی تاریخ کی ایک نہایت منفرد اور عجیب و غریب ایجاد تھی جسےآرام دہ سفر  فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

ابتدائی 1900 کی دہائی میں گاڑیوں کا سسپنشن آج جیسا مؤثر نہیں تھا اور سڑکیں بھی بہت خراب ہوا کرتی تھیں اسی لیے اُس دور میں لوگوں نے سفر کو آرام دہ بنانے کے لیے مختلف غیر روایتی طریقے اپنائے آٹھ پہیوں والی آکٹو آٹو بھی ایسی ہی ایک عجیب مگر دلچسپ کوشش تھی۔

ریوز اورلینڈ آکٹو آٹو نامی اس گاڑی کو امریکی موجد ملٹن ریوز نے 1911 میں تیار کی اس کا مقصد اُس وقت کے ایک بڑے مسئلے یعنی سفر کے دوران جھٹکوں اور غیر آرام دہ سواری کو حل کرنا تھا کیونکہ ابتدائی گاڑیاں نہ صرف غیر آرام دہ تھیں بلکہ ان کے ٹائروں پر بھی زیادہ دباؤ پڑتا تھا۔

آکٹو آٹو کی تیاری میں ریوز نے ٹرینوں سے متاثر ہو کر سوچا کہ جیسے ریل گاڑیوں میں وزن کو بہتر طریقے سے تقسیم کرنے کے لیے زیادہ بوگیاں ہوتی ہیں ویسے ہی اگر گاڑی میں پہیوں کی تعداد بڑھا دی جائے تو سواری زیادہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کیلئے مالٹا کا منفرد پروگرام متعارف

اس گاڑی کی خاص بات اس کا چار ایکسل اور آٹھ پہیوں پر مشتمل ڈیزائن تھ۔ سامنے کے دو ایکسل اسٹیئرنگ کے لیے تھے جبکہ پیچھے کے دو ایکسل میں سے ایک ڈرائیو کے لیے استعمال ہوتا تھا اور سب سے پچھلا ایکسل بھی اسٹیئرنگ میں مدد دیتا تھا۔

ملٹن ریوز کا خیال تھا کہ وزن کی بہتر تقسیم سے جھٹکوں میں کمی آئے گی، سسپنشن پر دباؤ کم ہوگا اور ٹائروں کی عمر بھی بڑھے گی اسی لیے اس گاڑی کی تشہیر دنیا کی سب سے ہموار سواری والی کار کے طور پر کی گئی۔

یہ گاڑی 1922 میں ہونے والی مشہور ریس انڈیانہ پولیس 500 میں پیش کی گئی جہاں اس نے ریس کاروں جتنی توجہ حاصل کی اس کے منفرد ڈیزائن اور دعوؤں نے لوگوں کو متوجہ تو کیا لیکن یہ دلچسپی فروخت میں تبدیل نہ ہو سکی۔

دوسری طرف آکٹو آٹو اپنی قیمت کی وجہ سے بھی ناکام رہی کیونکہ اس کی قیمت 3200 امریکی ڈالر تھی جو کہ تقریباً چار فارڈ ماڈل ٹی یا دو کیڈیلیک ماڈل 30 کے برابر تھی اس کے علاوہ زیادہ پہیوں کی وجہ سے گاڑی کو کنٹرول کرنا بھی مشکل تھا۔

بعد میں ریوز نے چھ پہیوں والی سیکٹو آٹو بھی متعارف کروائی تاہم لوگ سستی اور سادہ گاڑیوں کو ہی ترجیح دیتے رہے۔

آج آکٹو آٹو کو تاریخ کی سب سے عجیب ترین گاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version