مصر کے وسطی علاقے البہنسا میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے تقریباً 1600 سال پرانی ایک ممی دریافت کی ہے جس کے ساتھ ایک ایسا تحریری ٹکڑا ملا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق ممی کے پیٹ پر قدیم یونانی رزمیہ کلام کا حصہ چپکایا گیا تھا جو تدفینی عمل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممی قدیم شہر اوکسی رنکس کے مقام سے ملی ہے، جہاں پہلے بھی متعدد نوادرات دریافت ہوچکے ہیں تاہم اس بار سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ممی کے ساتھ ہومر کے مشہور رزمیہ کلام ’’ایلیڈ‘‘ کا ایک حصہ پایا گیا۔
یہ تحریر قدیم کاغذی مواد پر لکھی گئی تھی اور اسے باقاعدہ طور پر ممی کے جسم کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی ممیوں کے ساتھ یونانی تحریریں ملی ہیں مگر وہ زیادہ تر جادوئی یا مذہبی نوعیت کی ہوتی تھیں، ادبی کلام کا ملنا ایک بالکل نئی بات ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دریافت اس دور کے تدفینی طریقوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس رزمیہ کلام کو ممی کے ساتھ کیوں شامل کیا گیا۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ کسی ماہرِ حنوط سازی کی پہچان یا دستخط کے طور پر استعمال کیا گیا ہو جب کہ بعض ماہرین کے مطابق دیگر تحریروں کی طرح اس کا تعلق کسی روحانی یا حفاظتی عقیدے سے بھی ہوسکتا ہے۔
ابتدائی جائزے کے مطابق یہ حصہ رزمیہ کلام کے دوسرے باب سے متعلق ہے جس میں بحری بیڑوں کا ذکر موجود ہے تاہم تحریر کی حالت خستہ ہونے کے باعث مکمل تفصیلات پڑھنا مشکل ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ اس تحریر کو مزید واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اس کے اصل مقصد کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
یاد رہے کہ اوکسی رنکس کا مقام طویل عرصے سے کھدائی کے لیے معروف ہے، جہاں سے بے شمار نوادرات اور ممیوں کے آثار مل چکے ہیں تاہم اس نوعیت کی دریافت پہلی بار سامنے آئی ہے۔
یہ انکشاف اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اس دور میں یونانی زبان اور ادب کو اہمیت حاصل تھی اور لوگ ان سے بخوبی واقف تھے۔




















