یہ دنیا عجائبات سے گھری ہوئی ہے اور ہر روز ہی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو آپ کو حیران کر دیتے ہیں ایسا ہی ایک چونکہ دینے والا واقعہ برطانیہ میں پیش آیا جہاں ایک ساتھ جنم لینی والی بہنوں کو 40 سال بعد پتا چلا وہ آپس میں جڑواں بہنیں نہیں ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جو اپنی پوری زندگی خود کو جڑواں بہنیں سمجھتی رہیں تاہم انہوں نے اپنی عمر کے آخری چالیس برسوں میں یہ حیران کن انکشاف کیا کہ ان کے والد ایک نہیں ہیں۔
مشل اور لاوینیا اوسبورن جو کہ 49 برس کی ہوچکی ہیں 1976 میں ناٹنگھم میں صرف چند منٹ کے وقفے سے پیدا ہوئی تھیں۔
اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں انہیں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ان دونوں کے درمیان کچھ غیر معمولی ہے تاہم حال ہی میں گھر پر کیے جانے والے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد صورتحال بدل گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی جنریٹڈ جڑواں بہنیں انٹرنیٹ پر وائرل
ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ دونوں کی والدہ ایک ہی ہیں تاہم ایک ساتھ جنم لینے کے باوجود ان کے والد کی جانب سے ملنے والا ڈی این اے آپس میں مطابقت نہیں رکھتا اس کا مطلب یہ ہےکہ وہ نہ تو ایک جیسی جڑواں ہیں اور نہ ہی مکمل سگی بہنیں۔
اس حیران کن صورتحال کے پیچھے ایک نایاب حیاتیاتی عمل ہے جسے ’’ہیٹروپیٹرنل سپرفیکنڈیشن کہا جاتا ہے یہ حمل اس وقت ہوتا ہے جب کسی عورت کے ایک ہی حیض کے دوران ایک سے زیادہ انڈے خارج ہو اور وہ مختلف مردوں کے اسپرم سے بار آور ہوجائیں نتیجتاً ایک ہی وقت میں دو جنین نشوونما پانے لگتے ہیں اور اس طرح جڑواں بچے جنم لیتے ہیں لیکن ان کے والد الگ الگ ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں اب تک اس نوعیت کے صرف دو درجن سے بھی کم کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ اوسبورن بہنیں برطانیہ میں اس طرز پیدائش کی واحد معروف مثال ہیں۔
یہ حقیقت ان کی پیدائش کے کئی دہائیوں بعد سامنے آئی کیونکہ ماضی میں ایسے معاملات کا پتہ لگانا بہت مشکل تھا خیال رہے کہ عموماً اس طرح کے کیسز تبھی سامنے آتے ہیں جب بعد کی زندگی میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جائے۔
گھریلو ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس فی زمانہ کافی مقبول ہورہی ہیں یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اس قسم کی کئی رازافشاں ہوئے ہیں کیونکہ اب لوگوں کی بڑی تعداد اپنی خاندانی یا جینیاتی تاریخ جاننے میں دلچسپی لے رہی ہے جبکہ حالیہ معاملے میں بھی ایک معمولی ٹیسٹ نے ایک نہایت غیر معمولی حقیقت آشکار کر دی۔
اس کیس میں بھی جینیاتی فرق کے باوجود حیران کن طور پردونوں ایک ساتھ پیدا ہوئیں اور جڑواں بہنوں کے طور پر ہی پروان چڑھیں جو اس طرح کے کیسز میں عام بات ہے کیونکہ اس طرح کے حمل میں دونوں جنین ایک ہی وقت میں نشوونما پاتے ہیں چاہے ان کے والد مختلف ہی کیوں نہ ہو۔
یہ واقعہ اپنی منفرد نوعیت اور تقریباً پچاس برس بعد حقیقت سامنے آنے کے سبب دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔
