Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انسان اور مصنوعی پر؛ سائنسدانوں کے تجربے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا

انسانی دماغ میں خود کو بدلنے اور نئی چیزوں کو اپنانے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے، ماہرین

چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی دنیا میں انسانوں کو پر دے کر اُڑنے کا تجربہ کرایا گیا تو ان کے دماغ نے ان پروں کو جسم کا حصہ سمجھنا شروع کردیا۔

ماہرین کے مطابق انسانی دماغ کا ایک حصہ جسم کے اعضا جیسے ہاتھ اور پاؤں کو پہچاننے کا کام کرتا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اگر انسان کو ایسی چیز دی جائے جو قدرتی طور پر جسم کا حصہ نہیں، جیسے بڑے پر تو دماغ اس پر کس طرح ردعمل دیتا ہے۔

تحقیق میں 25 افراد کو شامل کیا گیا جنہیں ایک ہفتے تک روزانہ مخصوص وقت کے لئے مصنوعی دنیا میں پروں کے ساتھ اُڑنے کا تجربہ کرایا گیا۔

اس دوران شرکا اپنے ہاتھ نہیں دیکھ سکتے تھے بلکہ ہاتھوں کی جگہ انہیں صرف پر نظر آتے تھے۔ انہیں فضا میں دائروں کے اندر سے گزرنے اور اُڑنے جیسے کام دیا گیا۔

تحقیق کے بعد دماغی جائزے میں معلوم ہوا کہ شرکا کے دماغ نے ان مصنوعی پروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دینا شروع کردی۔ بعض دماغی سرگرمیاں ایسی تھیں جو عام طور پر انسانی ہاتھوں کو دیکھنے پر ظاہر ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی دماغ میں خود کو بدلنے اور نئی چیزوں کو اپنانے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں ایسے افراد کے لئے مددگار ثابت ہوسکتی ہے جن کے اعضا ضائع ہوچکے ہوں یا جنہیں مصنوعی اعضا استعمال کرنا پڑتے ہوں۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی دنیا میں ایسے تجربات صرف تفریح نہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل سکتے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں لوگ مصنوعی دنیا میں زیادہ وقت گزار سکتے ہیں، اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسے تجربات انسانی دماغ پر کس قسم کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں