اسپین میں دریافت ہونے والے ہزاروں سال پرانے قیمتی خزانے سے متعلق نئی تحقیق نے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔
تحقیق کے مطابق خزانے میں موجود دو قدیم اشیا ایسی دھات سے تیار کی گئی تھیں جو زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے گرنے والے شہابی پتھروں سے حاصل ہوئی تھی۔
یہ تاریخی خزانہ 1963 میں اسپین کے علاقے الی کانتے میں دریافت ہوا تھا جس میں سونے سے بنی 66 قیمتی اشیا شامل تھیں۔ ماہرین اسے یورپ کے قدیم ترین اور اہم خزانوں میں شمار کرتے ہیں۔
حال ہی میں ماہرین نے خزانے میں موجود ایک کڑا اور سونے سے مزین ایک چھوٹا گول ٹکڑا دوبارہ جانچا۔ ابتدائی طور پر یہ اشیا عام لوہے سے بنی ہوئی سمجھی جاتی تھیں لیکن ان کی عمر اس دور سے بھی زیادہ پرانی نکلی جب انسان زمین سے لوہا نکال کر استعمال کرنا شروع ہوا تھا۔
اس الجھن کو حل کرنے کے لئے ماہرین نے ان اشیا کا خصوصی سائنسی تجزیہ کیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں ایسی دھات موجود ہے جس میں مخصوص عناصر کی مقدار عام لوہے کے مقابلے میں زیادہ تھی جو عموماً شہابی پتھروں میں پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ تین ہزار سال سے بھی پہلے جزیرہ نما آئبیریا کے لوگ دھاتوں کو پہچاننے اور انہیں استعمال کرنے کی جدید صلاحیت رکھتے تھے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اس خطے میں شہابی پتھر سے بنی ہوئی قدیم ترین دریافت شدہ اشیا ہیں۔ ان اشیا کی تیاری تقریباً 1400 سے 1200 قبل مسیح کے درمیان کی گئی تھی۔
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اشیا وقت گزرنے کے باعث کافی خراب ہوچکی ہیں تاہم مزید جدید اور محفوظ سائنسی طریقوں سے مستقبل میں اس تحقیق کی مزید تصدیق کی جاسکتی ہے۔




















