Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایئرکنڈیشن کے بغیر گھر ٹھنڈا، چینی ایجاد نے دھوم مچا دی

اس ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر تیاری کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے،

گرمی کی شدت میں گھر اور دفاتر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایئر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے تاہم چین کے ماہرین نے ایسی کولنگ کوٹنگ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بجلی یا کسی روایتی کولنگ سسٹم کے بغیر عمارتوں کے اندر درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

چینی ماہرین کے تیار کردہ اس سپر کولنگ پینٹ میں ریڈی ایٹیو کولنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو سورج کی تابکاری کو بڑی حد تک منعکس کرنے کے ساتھ سطح سے حرارت خارج کرنے کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اس طرح عمارت کی چھت اور بیرونی سطح کم گرم رہتی ہے اور اندرونی درجہ حرارت کو بھی نسبتاً کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پینٹ کی حقیقی ماحول میں آزمائش صوبہ ہینان کے ایک کارخانے میں 6 ماہ تک کی گئی، جہاں شدید گرمی کے دوران اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ تجربے کے دوران یہ کوٹنگ عمارت کے اندر درجہ حرارت کو تقریباً 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رکھنے میں معاون ثابت ہوئی۔

جس کارخانے میں تجربہ کیا گیا وہاں اس سے قبل اندرونی درجہ حرارت کم رکھنے کے لیے واٹر اسپرنکلر سسٹمز استعمال کیے جاتے تھے، تاہم نئی کوٹنگ کے استعمال سے بغیر کسی اضافی توانائی کے کولنگ حاصل کرنے کا امکان سامنے آیا۔

ماہرین کے مطابق ریڈی ایٹیو کولنگ بنیادی طور پر ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں کسی سطح پر پڑنے والی حرارت کو منعکس کیا جاتا ہے جبکہ سطح اپنی حرارت کو مخصوص انداز میں خارج بھی کرتی ہے، جس کے نتیجے میں سطح کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر مبنی پینٹ کو گھروں کے علاوہ عوامی انفرااسٹرکچر، عمارتوں اور دیگر تعمیرات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شدید ہیٹ ویوز کے دوران بھی یہ کوٹنگ عمارت کے اندر درجہ حرارت کو نسبتاً محفوظ سطح پر رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ سپر کولنگ پینٹ چائنا کنسٹرکشن ایکو ڈویلپمنٹ کمپنی اور ہربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر تیاری کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے، جس کے تحت سالانہ تقریباً 6 لاکھ ٹن پینٹ تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

محققین کا اندازہ ہے کہ اس کوٹنگ کی اوسط مؤثر مدت تقریباً 15 سال تک ہوسکتی ہے، جس سے طویل مدت میں عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے توانائی کے استعمال میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

تاہم اس ایجاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر موسم اور ہر عمارت میں ایئر کنڈیشنر کی ضرورت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ اس کی کارکردگی عمارت کے ڈیزائن، مقامی موسم، دھوپ کی شدت اور دیگر عوامل پر بھی منحصر ہوگی، تاہم ماہرین کے مطابق ریڈی ایٹیو کولنگ پر مبنی یہ پینٹ روایتی کولنگ نظام کے ساتھ توانائی کی کھپت کم کرنے کا ایک نیا راستہ فراہم کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version