پاکستان کی معروف اداکارہ صحیفہ جبار کا کہنا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو بنیادی تعلیم اور شعور نہیں دے پا رہے۔
حال ہی میں پاکستان کی معروف اداکارہ صحیفہ جبار نے ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے دیگر معاملات سمیت ڈپریشن پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ کیمرے کے سامنے اگر یہ کہتی ہیں کہ وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہیں، تہجد گزار ہیں تو لوگ ان کے طرز زندگی پر سوالات اٹھانا شروع کریں گے اور کہیں گے کہ اداکارہ کے ہاتھ پر ٹیٹو بھی بنا ہوا ہے، انہیں یہ کام چھوڑ دینا چاہیے، وہ کام نہیں کرنا چاہیے۔
صحیفہ جبار نے کہا کہ لوگ کسی بھی حالت اور صورت میں خوش نہیں ہوتے، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ درد کو درد سمجھ کر اس کا علاج کروایا جاتا ہے جب کہ بیماری کو بیماری ہی سمجھا جانا چاہیے۔
اداکارہ نے کہا کہ جب بھی کوئی ڈپریشن یا دوسرے مسائل کی بات کرتا ہے تو ہم اس کی بات کو گھما پھرا کر مذہب کی طرف لے آتے ہیں جب کہ مذہب میں ڈپریشن پر بحث کی جا چکی ہے اور قرآن میں بھی ڈپریشن کا ذکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن میں ڈپریشن سمیت دیگر بیماریوں کا حل بتایا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا ہے کہ بیماری کا علاج نہ کروایا جائے، بخار ہو تو دوائی نہیں لینی۔
