Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نامور افسانہ نگار محمد منشا یاد کی 13 ویں برسی

پاکستان کے معروف افسانہ نگار محمد منشا یاد کی 13 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

منشا یاد 5 ستمبر 1937 کو حافظ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد منشا تھا، تاہم منشا یاد کے قلمی نام سے ادبی سفر کا آغاز کیا، اُن کا پہلا افسانہ 1955 میں منظر عام پر آیا۔

انہوں نے ترقی پسند تحریک کے غلبے کے باوجود اپنے لئے ایک نئی اور الگ راہ تلاش کی، اُن کا نقطہ نظر تھا کہ کہانی قاری کی سمجھ میں آنی چاہیے۔

’’بند مٹھی میں جگنو‘‘، ’’ماس اور مٹی‘‘ اور ’’خلا اندر خلا‘‘ ان کی کہانیوں کے نمائندہ مجموعے ہیں۔

’’جنون‘‘، ’’بندھن‘‘، ’’آواز‘‘ اور’’پورے چاند کی رات‘‘ منشا یاد کے معروف ٹی وی ڈرامے ہیں۔

اُن کے پنجابی ناول ’’ٹاواں ٹاواں تارا‘‘ کو ایک ڈرامہ سیریل میں ڈھالا گیا جو ’’راہیں‘ کے نام سے سرکاری ٹی وی پر نشر ہوا نے بہت مقبولیت حاصل کی۔

انہوں نے اسلام آباد میں حلقہ ارباب ذوق کی شاخ بھی قائم کی، حکومت پاکستان نے 2004 میں منشا یاد کو تمغۂ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

2006 میں انہیں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ ملا، 2010 میں عالمی فروغ ادب ایوارڈ کے حق دار بھی ٹھہرے۔

منشا یاد 15 اکتوبر 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

Exit mobile version