شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے بادشاہ چارلس کی جانب سے جاری خط پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں دونوں کی غیر فعال شاہی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ شاہی خاندان کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کے ترجمان کے مطابق جوڑا اس بات پر حیران تھا کہ انہیں خط جاری کرنے سے قبل اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تاہم شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ خط منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ہیری اور میگھن کو اس سے آگاہ کردیا گیا تھا۔
شاہی ذرائع کے مطابق انہیں خط میڈیا میں جاری کیے جانے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل موصول ہوا جس کے باعث انہیں اپنا ردعمل دینے کے لیے بہت کم وقت ملا۔
بادشاہ چارلس کی جانب سے اعلیٰ شاہی عہدیدار لارڈ چیمبرلین کے ذریعے بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن اب شاہی خاندان کے فعال ارکان نہیں اور برطانیہ میں ہونے والی کسی بھی سرگرمی میں شاہی خاندان کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
خط کے مطابق دونوں کو آئندہ بھی ’’ہز رائل ہائنس‘‘ اور ’’ہر رائل ہائنس‘‘ کے شاہی خطابات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور وہ نجی شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں گے۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن کی فلاحی سرگرمیاں ان کا ذاتی معاملہ ہیں اور وہ انہیں اپنی نجی حیثیت میں انجام دیں گے۔
یہ پیغام 2020 میں طے پانے والے سینڈرنگھم معاہدے کی موجودہ حیثیت کی بھی یاد دہانی ہے جس کے تحت ہیری اور میگھن نے شاہی فرائض سے دستبرداری اختیار کی تھی۔
اس معاہدے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ بیک وقت شاہی فرائض اور ذاتی تجارتی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
دوسری جانب برطانیہ میں دوبارہ سکونت اختیار کرنے کے بعد ہیری اور میگھن کی سرکاری اخراجات سے فراہم کی جانے والی حفاظتی سہولیات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی رواں ہفتے اجلاس کرے گی۔
شہزادہ ہیری ماضی میں برطانیہ میں پولیس تحفظ کی مناسب سطح نہ ملنے پر شکایت کرچکے ہیں تاہم برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات ضرورت کے مطابق اور متناسب ہوتے ہیں۔
شہزادہ ہیری آئندہ اپنی فلاحی سرگرمیوں، خصوصاً انوِکٹَس کھیلوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ میگھن مارکل کے دوبارہ اداکاری کی جانب واپسی پر غور کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
