امریکہ: یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایسے اسٹیم خلیات تیار کئے ہیں جنہیں آنکھوں کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیا جاسکے گا۔
واضح رہے کہ یہ خلیات روشنی کے لیے حساست رکھتے ہیں کیونکہ انہیں آنکھوں کے خلیات سے ہی لے کر کر لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے، تاہم اب ان کی انسانی آنکھ میں پیوند کاری کی جائے گی جو کہ بصارت کے علاج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جواں جلد اور بہتر بصارت کے لیے یہ مشروب استعمال کریں
یہ فوٹو ریسیپٹر خلیے دوسرے خلیوں کے ساتھ مل کر ریٹنا بناتے ہیں۔ آنکھ کے پچھلے حصے میں ٹشو کی ایک پتلی تہہ جو روشنی کی طول موج کو سگنلز میں تبدیل کرنے کے لیے ذمہ دار ہے جسے دماغ بصارت سے تعبیر کرتا ہے۔
محققین ایک عرصے سے جسم کے باہر ریٹنا کے خلیات کو بڑھانے پر کام کر رہے تھے تاکہ انہیں آنکھ کے اندر مردہ یا غیر فعال ٹشوز کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
2014 میں، محققین نے آرگنائڈز سیل کلسٹرز کو لیبارٹری میں تھری ڈی شکل میں منظم کر کے تیار کیا جو کہ ظاہری صورت میں حقیقی ریٹنا اور کام سے مشابہت رکھتا تھا۔ انہوں نے یہ کام انسانی جلد کے خلیات کو اسٹیم سیلز کے طور پراستعمال کیا اور انہیں دوبارہ منظم شکل میں ترتیب دے کر کئی قسم کے ریٹنا سیل میں بدل دیا۔
گزشتہ برس اسی ٹیم نے تحقیقی مطالعات شائع کیں جس میں انھوں نے لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے ریٹنا خلیے کی جانب سے روشنی کی مختلف طول موجوں اور شدتوں کے لیے دیئے جانے والے ردعمل کو بہترین قرار دیا۔ اور ساتھ ہی ان خلیات کی ایک اہم خصوصیت کا بھی ذکر کیا کہ یہ اپنے ہمسایہ خلیات تک رابطہ قائم کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس تحقیق کے ایک اہم محقق اور ماہر امراض چشم ڈیوڈ گیم کے مطابق یہ نئی تحقیق پزل کا آخری ٹکڑا ہے۔
گیم کا کہنا ہے کہ ہم ان آرگنائڈز خلیوں کو ان ہی قسم کے خلیوں کے متبادل حصوں کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے جو ریٹنا کی بیماریوں کے دوران کھو چکے ہیں۔
تاہم ایک لیبارٹری ڈش میں مہینوں تک کمپیکٹ کلسٹرز کے طور پر بڑھنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خلیات الگ کئے جانے کے بعد بھی اسی طرح کا برتاؤ کریں گے جیسا کہ لیبارٹری میں نوٹ کیا گیا ہے کیونکہ اب انہیں مریض کی آنکھ میں متعارف کرایا جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بصارت سے جڑی ان علامات کو کبھی نظر مت کریں
اس کی فعالیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ خلیات ایک دوسرے کے ساتھ ایکسونس نامی ایکسٹینشن کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جڑنے کے قابل ہوتے ہیں یا نہیں، جس میں ایک کیمیکل سگنل باکس ہوتا ہے جسےسائنیپسس کہا جاتا ہے جو جنکشن بناتا ہے۔
خلیوں کے درمیان محور کو پھیلا ہوا دیکھنا ایک اہم ترین عمل ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ورکنگ کنکشن بنائے گئے تھے، ٹیم نے ریٹینل سیلز کے کلسٹرز کو الگ کیا اور انہیں دوبارہ جڑتے دیکھا۔
اس کے بعد ایک ریبیز وائرس شامل کیا گیا، جو ایک ہفتے کے دوران ریٹینا کے خلیات کے درمیان سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی سائنیپسس کنکشن ہو چکا تھا۔
گیم کا کہنا ہے کہ اب یہ خلیات انسانی آنکھ میں آزمائش کے لیے تیار ہوچکے ہیں اور امید ہے کہ اس سے کئی مریضوں کی بصارت کو بہتر بنایا جاسکے گا۔
یہ تحقیق پی این اے ایس میں شائع کی گئی ہے۔
