Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دماغ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو آج ہی یہ کام شروع کردیں

اگر آپ اپنے دماغ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ذیل میں بتائی گئی عادات کو آج ہی اپنالیں۔

جسمانی ورزش

جسمانی ورزش دماغی صحت کے لیے بھی مفید ہوتی ہے، ورزش سے دماغ کے اس حصے کے لیے آکسیجن سے بھرپور خون کا بہاؤ بڑھتا ہے جو سوچنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ورزش سے نئے اعصابی خلیات کی نشوونما بھی تیز ہوتی ہے اور دماغی خلیات کے درمیان تعلق بڑھتا ہے، اس کے نتیجے میں دماغ زیادہ مؤثر انداز سے کام کرنے لگتا ہے جبکہ اس کی لچک بڑھتی ہے۔

ورزش سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول، بلڈ شوگر اور تناؤ کی سطح بھی گھٹ جاتی ہے اور یہ سب دماغی صحت کو نقصان پہنچانے والے عناصر ہیں۔

اچھی غذا

اچھی غذا جسم کے ساتھ دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہے، پھلوں، سبزیوں، گریوں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر کا خیال رکھیں

درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے بڑھاپے میں دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند عام چیزوں کا خیال رکھ کر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

ورزش، الکحل سے گریز، اچھی غذا، تناؤ سے بچنے اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے سے بلڈ پریشر کو خود سے دور رکھنا ممکن ہے۔

بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھیں

ذیابیطس کو ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والا اہم عنصر مانا جاتا ہے۔

اچھی غذا، ورزش اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اسی طرح بلڈ شوگر بڑھنے پر ادویات کے ذریعے بھی اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

صحت کے لیے نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول سے امرض قلب کے ساتھ ساتھ ڈیمینشیا کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے کنٹرول میں رکھنا ضروری ہے۔

اس کے لیے اچھی غذا، ورزش، جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا اور تمباکو نوشی سے گریز جیسی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔

تمباکو نوشی مت کریں

تمباکو نوشی صرف جسم نہیں بلکہ دماغ کے لیے بھی تباہ کن ہوتی ہے، تمباکو نوشی سے دماغ سکڑنے کا خطرہ بڑھتا ہے اور دماغ قبل از وقت بڑھاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔

سماجی تعلقات استوار کریں

لوگوں سے دور رہنے سے دماغی افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں سے بات چیت کریں یا نئے دوست بنانے کی کوشش کریں۔

اچھی نیند

جب آپ نیند کی کمی کے شکار ہوتے ہیں تو دماغ کے لیے ایک عام کام بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

نیند کی کمی کے شکار ہونے پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جبکہ یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تو اچھی دماغی صحت کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند ضروری ہوتی ہے۔

ذہنی صحت کا خیال رکھیں

اگر آپ کو ڈپریشن کا سامنا ہے تو اس سے دماغی تنزلی کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔

ڈپریشن سے توجہ مرکوز کرنے اور فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

یہی وجہ ہے کہ ڈپریشن کی علامات کا سامنا کرنے والے افراد کو

Exit mobile version