آج ہم آپکو بتائیں گے کہ فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر امراضِ قلب کو ہمیشہ خود سے دور رکھنے کے لئے کونسی عادت اپنانی چاہیے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان امراض سے بچنا چاہتے ہیں تو تیز رفتاری سے چہل قدمی یا دیگر ورزشوں کو اپنا معمول بنالیں۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں سے دماغ کے اندر تناؤ سے جڑے مسائل کی شدت گھٹ جاتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ اب بھی ہمیں جسمانی سرگرمیوں کے مکمل فوائد کا علم نہیں اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تحقیق پر کام کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے تحقیق میں 50 ہزار سے زائد مریضوں کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور ان سے جسمانی سرگرمیوں کے بارے میں بھی معلوم کیا گیا۔
ان میں سے 774 افراد کے دماغی اسکین کرائے گئے اور تناؤ سے متعلق دماغی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ اوسطاً 10 سال تک لیا گیا، جس دوران 12.9 فیصد میں امراض قلب کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں کے عادی افراد میں امراض قلب کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے جبکہ تناؤ سے جڑی دماغی سرگرمیوں میں بھی کمی آتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تناؤ میں کمی کی وجہ دماغ کے ان افعال میں بہتری ہوتی ہے جو فیصلہ سازی اور اضطراب کو کنٹرول کرنے کا کام کرتے ہیں، یہی افعال تناؤ سے متعلق ردعمل بھی کنٹرول کرتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تناؤ میں کمی سے جسمانی سرگرمیوں سے دل کی شریانوں سے جڑے نظام کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
