چائے پینے کا ایک اور حیران کُن فائدہ سامنے آ گیا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق چائے پینے کی عادت ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے دائمی مرض سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ فلیونوئڈز مرکبات سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے، فلیونوئڈز ایسے پولی فینولک مرکبات ہیں جو انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خون میں چکنائی کی سطح کم کرتے ہیں۔
ماہرین نے اس تحقیق میں ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی، ان افراد میں فلیونوئڈز سے بھرپور غذاؤں کے استعمال کے حوالے سے سرویز کیے گئے۔
اس کے بعد فلیونوئڈز کے استعمال اور ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 28 فیصد تک گھٹ جاتا ہے، اس حوالے سے چائے زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے اور روزانہ 4 کپ سیاہ یا سبز چائے پینے سے ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذائیں صحت کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں جبکہ خون میں شکر زیادہ جذب ہونے لگتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہمارے جسم کو بلڈ گلوکوز کو زیادہ مؤثر انداز سے پراسیس کرنے میں مدد ملتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
خیال رہے کہ فلیونوئڈز سے بھرپور غذاؤں میں بیریز، شملہ مرچ، مالٹے، گریپ فروٹ، پیاز، ڈارک چاکلیٹ، سیب، سبز اور سیاہ چائے قابل ذکر ہیں۔
