Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آپ کی آنت میں چھپا وہ ہیرو جو خطرناک جراثیم کو ختم کررہا ہے

اس پروٹین کو انٹیلیکٹن 2 کہا جاتا ہے اور یہ دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا ہے کہ آنتوں میں پایا جانے والا ایک خاص پروٹین جراثیم کے پھیلاؤ کے خلاف اہم جنگ لڑرہا ہے۔ یہ پروٹین مستقبل میں سوزش آمیز آنتوں کی بیماری جیسے مسائل کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس پروٹین کو انٹیلیکٹن 2 کہا جاتا ہے اور یہ دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ پہلے طریقے میں یہ آنتوں کی پرت میں موجود بلغم کے مالیکیولوں کو جوڑ کر اس رکاوٹ کو مضبوط کرتا ہے جو آنتوں کے بافتوں کی حفاظت کرتی ہے۔

اگر یہ رکاوٹ ٹوٹ بھی جائے تو دوسرے طریقے میں یہ پروٹین مختلف جراثیم کو پہچان کر پھنساتا ہے اور ان کی افزائش روک دیتا ہے یا انہیں مکمل طور پر ختم کردیتا ہے۔

ایم آئی ٹی کی کیمیا دان لورا کیسلنگ کے مطابق انٹیلیکٹن 2 دو تکمیلی طریقوں سے کام کرتا ہے۔ یہ بلغم کی تہہ کو مستحکم کرتا ہے اور اگر یہ تہہ کمزور ہوجائے تو یہ باہر نکلنے والے جراثیم کو بے اثر کرسکتا ہے۔

محققین نے چوہوں اور انسانوں کی آنتوں کے جراثیم پر یہ مطالعہ کیا ہے جس میں انہوں نے پایا کہ یہ پروٹین گیلیکٹوز نامی شکر کو نشانہ بناتا ہے جو آنتوں کی پرت اور بعض جراثیم کی سطح پر پائی جاتی ہے۔ جب یہ پروٹین جراثیم کو پھنساتا ہے تو وقت کے ساتھ وہ جراثیم ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ انٹیلیکٹن 2 ان جراثیم کو بھی بے اثر کرسکتا ہے جن میں اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا ہوچکی ہو، جیسے اسٹیفیلوکوکس اوریئس (جو سیپسس کا سبب بنتا ہے) اور کلیبسیلا نمونیا (جو نمونیا اور دیگر انفیکشن کا سبب بنتا ہے)۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی جینوم میں 200 سے زیادہ ایسے لیکٹینز موجود ہیں۔ اس تحقیق سے پہلے انٹیلیکٹن 1 کا تعلق کرون کی بیماری سے جوڑا جاچکا ہے۔

محققین کے مطابق سوزش آمیز آنتوں کی بیماری میں مبتلا افراد میں انٹیلیکٹن 2 کی سطح غیر معمولی طور پر کم یا زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلغم کی رکاوٹ ٹھیک سے کام نہیں کررہی یا صحت مند جراثیم ختم ہورہے ہیں۔

کیسلنگ کا کہنا ہے کہ انسانی لیکٹینز کو اینٹی مائکروبیل مزاحمت سے لڑنے کے لیے استعمال کرنا ایک نیا طریقہ ہے جو ہمارے اپنے قدرتی دفاعی نظام پر مبنی ہے۔

Exit mobile version