Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خاموشی سے ہڈیوں کو کمزور کرنے والی بیماری، 40 فیصد بالغ افراد متاثر

یہ بیماری عموماً بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتی ہے، ماہرین

دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد بالغ افراد ایک ایسی خاموش بیماری کا شکار ہیں جو ہڈیوں کو آہستہ آہستہ کمزور کردیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ خاص طور پر بڑی عمر کے افراد اور رجونِ حیض کے بعد خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیماری عموماً بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتی ہے اور اکثر لوگوں کو اس وقت تک اس کا علم نہیں ہوتا جب تک ہڈی ٹوٹ نہ جائے یا معائنہ نہ کرایا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ہڈی مسلسل بننے اور ٹوٹنے کے عمل سے گزرتی ہے۔ جوانی میں یہ عمل متوازن رہتا ہے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کا ٹوٹنا بڑھ جاتا ہے اور نئی ہڈی بننے کا عمل کم ہوجاتا ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ عمر ہے تاہم ہارمونز میں تبدیلی، خاص طور پر خواتین میں ایک خاص مرحلے کے بعد ہڈیوں کی کمزوری کو تیز کردیتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی، زیادہ شراب نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر متوازن غذا بھی اس مسئلے کو بڑھاسکتی ہے۔ اسی طرح کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی مضبوطی کو متاثر کرتی ہے۔

کچھ ادویات کا طویل استعمال اور بعض بیماریوں کی موجودگی بھی اس خطرے میں اضافہ کرتی ہیں جس کے باعث ہڈیاں زیادہ کمزور ہوسکتی ہیں۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے تاکہ ہڈیوں کے مزید کمزور ہونے اور ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔

اس کے لیے ایک خاص قسم کا معائنہ کیا جاتا ہے جس سے ہڈیوں کی مضبوطی کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر علاج یا احتیاطی تدابیر تجویز کی جاتی ہیں۔

علاج میں عموماً طرزِ زندگی میں بہتری پر زور دیا جاتا ہے جیسے باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور نقصان دہ عادات سے پرہیز شامل ہیں۔

وزن اٹھانے والی ورزشیں اور چہل قدمی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں جب کہ متوازن غذا ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ بیماری اگرچہ خطرناک ہوسکتی ہے مگر بروقت احتیاط اور صحت مند عادات اپناکر اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر شروع میں ہی توجہ دی جائے تو ہڈیوں کی کمزوری کو سست کیا جاسکتا ہے اور بعض صورتوں میں بہتری بھی ممکن ہے۔

Exit mobile version