نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بغیر کیفین والی کافی بھی ذہنی کارکردگی اور مزاج پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کافی صرف توانائی بڑھانے والا مشروب نہیں بلکہ جسم اور دماغ دونوں پر اثر انداز ہونے والا ایک پیچیدہ عنصر ہے۔
آئرلینڈ کی ایک جامعہ میں ہونے والی تحقیق میں 62 افراد کا جائزہ لیا گیا جن میں سے نصف روزانہ کافی پیتے تھے جب کہ باقی افراد کافی استعمال نہیں کرتے تھے۔
تحقیق کے آغاز میں دونوں گروپس کی صحت، نیند، ذہنی دباؤ اور دیگر عوامل تقریباً ایک جیسے تھے تاہم وقت کے ساتھ کافی پینے والوں میں جسم کے مدافعتی نظام اور معدے میں موجود جراثیم میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔
مزید جانچ کے لیے کافی پینے والوں کو دو ہفتے کے لیے کافی چھوڑنے کا کہا گیا جس کے بعد انہیں دوبارہ کافی دی گئی، کچھ افراد کو کیفین والی جب کہ کچھ کو بغیر کیفین کافی دی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں اقسام کی کافی نے ذہنی دباؤ، افسردگی اور سوزش میں کمی پیدا کی اور موڈ اور ذہنی کارکردگی بہترین بنائی۔
تاہم کیفین والی کافی نے توجہ بہتر بنانے، بے چینی کم کرنے اور دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کیا۔
دوسری جانب بغیر کیفین کافی نے نیند کے معیار، جسمانی سرگرمی اور یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی کا اثر صرف کیفین تک محدود نہیں بلکہ یہ معدے اور دماغ کے باہمی تعلق پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کافی میں موجود مختلف اجزاء جسم کے نظام اور ذہنی کیفیت پر مختلف انداز سے اثر ڈالتے ہیں، اس لیے ہر فرد کے لیے اس کے فوائد مختلف ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم موجودہ نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی، چاہے کیفین والی ہو یا بغیر کیفین والی، مناسب مقدار میں استعمال کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
