دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک میں تشویش پائی جارہی ہے تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کورونا کی طرح تیزی سے پھیلنے والا نہیں اور اس کے عالمی وبا بننے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایک بحری جہاز میں ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کو مختلف ممالک منتقل کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دوسرے کترنے والے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کے پیشاب، لعاب یا فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب یہ مواد خشک ہوکر فضا میں شامل ہوجائے تو انسان سانس کے ذریعے متاثر ہوسکتا ہے۔
یہ وائرس زیادہ تر پھیپھڑوں اور گردوں کو متاثر کرتا ہے۔ ابتدا میں بخار، تھکن اور جسم درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جب کہ بعد میں سانس لینے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بیماری کی تشخیص ابتدائی دنوں میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ علامات عام نزلہ زکام یا فلو سے ملتی جلتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو کورونا جیسا خطرہ تصور نہ کیا جائے کیونکہ ہنٹا وائرس کا عوامی سطح پر خطرہ کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی ایک مخصوص قسم محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے طویل اور قریبی رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ عام میل جول یا فضا کے ذریعے اس کے پھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
طبی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس انسانی ناک اور گلے میں تیزی سے بڑھتا تھا، اسی لیے وہ کھانسی اور چھینک کے ذریعے بہت جلد دوسروں تک منتقل ہوجاتا تھا جب کہ ہنٹا وائرس جسم کے اندر گہرائی میں موجود خلیات کو متاثر کرتا ہے جس سے اس کی منتقلی محدود رہتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ہنٹا وائرس خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تاہم اس کے عالمی وبا بننے کے امکانات انتہائی کم ہیں کیونکہ اس کا پھیلاؤ سست رفتار ہے اور متاثرہ افراد کو بروقت الگ کرکے صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
