Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، مصطفیٰ کمال

مصر نے عوامی اسکریننگ مہم کے ذریعے سات برس میں ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ کیا، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے وزیرِاعظم کے پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کی سافٹ لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے جو ملک کے صحت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برس سے جاری کوششوں کے بعد 67 ارب روپے مالیت کے قومی ہیپاٹائٹس سی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پورے ملک میں نیشنل ڈیٹا بیس اور نادرا کی معاونت سے عوام کی اسکریننگ کی جائے گی۔

مصطفٰی کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک جان لیوا بیماری ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 6 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں، جن میں سے ایک کروڑ مریض پاکستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 80 فیصد مریضوں کو اپنے مرض کا علم ہی نہیں اور وہ غیر ارادی طور پر بیماری پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس سی اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو لیور کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے اس لیے عوام کو احتیاط اور بروقت اسکریننگ پر توجہ دینی چاہیے انہوں نے کہا کہ “احتیاط علاج سے بہتر ہے” اور لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہی اصل ہیلتھ کیئر ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد کے وفاقی اسپتالوں میں 12 ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں عوام کی مفت تشخیص کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سات ہزار روپے مالیت کا ٹیسٹ اور 3 سے 6 ماہ تک کی ادویات بھی مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

مصطفٰی کمال نے مصر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے عوامی اسکریننگ مہم کے ذریعے سات برس میں ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ کیا لہٰذا پاکستان بھی یہ ہدف حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں اس لیے شہری بروقت اسکریننگ کروائیں اس سے پہلے کہ بیماری ناقابلِ علاج مرحلے میں داخل ہو جائے۔

وفاقی وزیر صحت نے صحت کے موجودہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نظامِ صحت ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کے بجائے’’سک کیئر‘‘ بن چکا ہے ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور محدود طبی سہولیات کے باعث ڈاکٹرز پر غیر معمولی بوجھ ہے، جہاں ایک ڈاکٹر کو 30 مریض دیکھنے کے بجائے 350 مریضوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے اسپتالوں کے سربراہان اور طبی عملے کو ہدایت کی کہ اسکریننگ کے لیے آنے والے افراد کے ساتھ خوش اخلاقی اور تعاون کا مظاہرہ کیا جائے۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہ “خدا کی مخلوق کی خدمت عین عبادت ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔”

Exit mobile version