دنیا بھر میں خواتین میں پائی جانے والی ایک عام ہارمون بیماری کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کردیا گیا ہے۔
ماہرین کے عالمی اتحاد کا کہنا ہے کہ اب اس بیماری کو ’’متعدد ہارمون، میٹابولک اور بیضہ دانی کی بیماری‘‘ کے نام سے جانا جائے گا کیونکہ پرانا نام بیماری کی مکمل حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتا تھا۔
یہ اعلان یورپ میں منعقدہ ہارمون ماہرین کے عالمی اجلاس کے دوران کیا گیا۔ ماہرین، مریضوں اور سماجی تنظیموں نے تقریباً 14 برس کی مشاورت کے بعد اس تبدیلی پر اتفاق کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پرانا نام صرف بیضہ دانی تک محدود تاثر دیتا تھا جب کہ یہ بیماری جسم کے کئی نظاموں کو متاثر کرتی ہے۔
اس بیماری میں صرف ماہواری کی بے قاعدگی یا بانجھ پن ہی نہیں بلکہ وزن میں اضافہ، ذہنی دباؤ، جلد کے مسائل، زائد بال، شوگر سے متعلق پیچیدگیاں اور دیگر ہارمون مسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ خواتین اس بیماری کا شکار ہیں جب کہ بڑی تعداد میں مریضوں کی بروقت تشخیص ہی نہیں ہوپاتی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پرانا نام اس غلط فہمی کا سبب بنا کہ بیماری صرف بیضہ دانی میں بننے والی رسولیوں سے متعلق ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ مکمل ہارمون اور جسمانی نظام سے جڑا مسئلہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس بیماری میں مبتلا بیشتر خواتین انسولین مزاحمت کا شکار ہوتی ہیں جس سے ذیابیطس، موٹاپے اور جگر کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے مگر اکثر مریضوں کا ان مسائل کے لیے مکمل معائنہ نہیں کیا جاتا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی سے نہ صرف عوام میں درست آگاہی بڑھے گی بلکہ علاج، تحقیق اور طبی سہولیات تک رسائی بھی بہتر ہوسکے گی۔
آئندہ تین برس کے دوران دنیا بھر میں نئے نام سے آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ عالمی ادارے بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔




















