Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چائے کے ایک کپ میں اربوں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات شامل ہونے کا انکشاف

کیا روزمرہ استعمال کی جانے والی چائے بھی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟

آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پلاسٹک کی الیکٹرک کیتلیاں پانی میں اربوں خوردبینی پلاسٹک ذرات شامل کرسکتی ہیں۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں ہونے والی ایک تازہ سائنسی تحقیق نے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی پلاسٹک کی اشیاء کے ممکنہ خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی بنی ہوئی برقی کیتلیاں پانی کو اُبالنے کے دوران اربوں انتہائی باریک پلاسٹک ذرات خارج کرسکتی ہیں۔ یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے محققین نے آٹھ مختلف پلاسٹک کیتلیوں کے پانی کا تجزیہ کیا۔

نتائج کے مطابق پہلی بار پانی اُبالنے پر فی ملی لیٹر تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ باریک پلاسٹک ذرات خارج ہوئے جس کا مطلب ہے کہ ایک عام کپ چائے میں اربوں ذرات موجود ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ذرات اس سے بھی زیادہ باریک ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر خوردبینی پلاسٹک کہا جاتا ہے اور یہ انسانی جسم میں داخل ہوکر مختلف مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان ذرات کی مقدار کم کرنے کے لیے کچھ طریقے کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔

مثلاً سخت پانی استعمال کرنے سے کیتلی کے اندر ایک تہہ بن جاتی ہے جو پلاسٹک کے اخراج کو کسی حد تک روک دیتی ہے۔ اسی طرح بار بار پانی اُبالنے اور پھینکنے سے بھی ابتدائی مراحل میں پلاسٹک کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ کئی بار استعمال کے بعد بھی پانی میں پلاسٹک کے ذرات موجود رہتے ہیں، اگرچہ ان کی مقدار نسبتاً کم ہوجاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل استعمال کے بعد بھی پانی میں لاکھوں باریک پلاسٹک ذرات موجود رہ سکتے ہیں جو روزمرہ استعمال کے دوران انسانی جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ ذرات انسانی صحت کے لیے کس حد تک نقصان دہ ہیں، اس بارے میں ابھی مکمل سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں تاہم پہلے کی تحقیقات میں انہیں معدے، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کے مسائل سے جوڑا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے یہ باریک ذرات ماحول کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر ممکنہ طور پر مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

تحقیق کرنے والے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کے لیے واضح ہدایات اور وارننگ لیبلز لگائے جائیں تاکہ لوگ اس ممکنہ خطرے سے آگاہ رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرسکیں۔

محققین کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں مختلف گھریلو برقی آلات اور پرانی پلاسٹک مصنوعات پر بھی تحقیق کی جائے گی تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ان سے نکلنے والے ذرات کی مقدار میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ بار بار استعمال سے ان ذرات کی مقدار کم ہو جاتی ہے لیکن مکمل طور پر خطرہ ختم نہیں ہوتا اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

Exit mobile version