Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہلدی اور ادرک موٹاپا کم کرنے میں معاون ثابت، تحقیق

تحقیق کے مطابق خمیر شدہ ہلدی کے استعمال سے جانوروں میں وزن بڑھنے اور چربی جمع ہونے میں کمی دیکھی گئی

ہلدی اور ادرک کی افادیت سے کون واقف نہیں، سپرفوڈ میں شامل یہ دونوں نہ صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے ہی نہیں بلکہ مستقبل میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

 ایک حالیہ سائنسی جائزے میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ان جڑوں اور دیگر طبی پودوں کو خمیر (فرمنٹیشن) کرنے سے ایسے حیاتیاتی مرکبات پیدا ہوسکتے ہیں جو جسم میں چربی بننے، توانائی کے استعمال اور میٹابولزم سے متعلق مختلف عوامل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جائزے کے مطابق مائیکرو آرگنزمز کے ذریعے ہلدی، ادرک اور دیگر طبی جڑوں کو خمیر کرنے سے نئے مرکبات پیدا ہوسکتے ہیں، جنہیں پوسٹ بائیوٹکس کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات موٹاپے سے متعلق بعض حیاتیاتی راستوں پر ممکنہ اثرات رکھتے ہیں۔

خمیر کرنے سے ہلدی کے اثرات میں تبدیلی

جائزے میں ہلدی کو نمایاں اہمیت دی گئی۔ تحقیق کے مطابق خمیر شدہ ہلدی کے استعمال سے جانوروں میں وزن بڑھنے اور چربی جمع ہونے میں کمی دیکھی گئی، جبکہ آنتوں کے بیکٹیریا میں بھی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

 

ایک تجربے میں مخصوص فنگس کے ذریعے جنگلی ہلدی کو خمیر کرنے سے ایل کرنیٹائن نامی مرکب پیدا ہوا۔ یہ مادہ فیٹی ایسڈز کو خلیوں کے مائٹوکونڈریا تک پہنچانے میں کردار ادا کرتا ہے، جہاں انہیں توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محققین کے مطابق غیر خمیر شدہ ہلدی میں یہ مرکب موجود نہیں تھا۔

جائزے میں آنتوں کی صحت کو بھی موٹاپے سے متعلق ممکنہ اثرات کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ بعض مطالعات میں خمیر شدہ جڑوں کے استعمال کے بعد میٹابولک صحت سے منسلک بیکٹیریا کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ خمیر شدہ ہلدی کے استعمال سے بعض شارٹ چین فیٹی ایسڈز میں اضافے کے شواہد بھی ملے۔ یہ مرکبات جسم میں چربی کے انتظام، انسولین کے اخراج اور توانائی کے استعمال سے متعلق مختلف عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شہد میں چٹکی بھر ہلدی ملائیں، ڈھیروں مسائل سے نجات پائیں

محققین کے مطابق خمیر شدہ طبی جڑیں کم از کم چھ مختلف حیاتیاتی راستوں کے ذریعے موٹاپے سے متعلق اثرات پیدا کرسکتی ہیں۔ ان میں چربی کے خلیوں کی تشکیل میں کمی، جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے ٹوٹنے میں اضافہ، انسولین سگنلز میں بہتری، سوزش میں کمی، آنتوں کی حفاظتی رکاوٹ کو مضبوط بنانا اور بھوک اور توانائی کے استعمال کی تنظیم شامل ہیں۔

جائزے میں شامل جانوروں پر کیے گئے آٹھ مطالعات میں وزن میں اضافے یا چربی کے ٹشوز کے حجم میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض تجربات میں خون میں چربی سے متعلق اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

تاہم ماہرین کے مطابق ان نتائج کو انسانوں میں وزن کم کرنے کے حتمی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ جائزہ مجموعی طور پر 10 پری کلینیکل مطالعات پر مبنی تھا، جن میں جانوروں اور لیبارٹری میں موجود خلیوں پر تجربات شامل تھے۔

اس لیے محض کھانے میں ہلدی یا ادرک شامل کرنے سے وزن کم ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ محققین نے ان خمیر شدہ مرکبات کی افادیت جانچنے کے لیے انسانوں پر باقاعدہ اور رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Exit mobile version