Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سگریٹ نوشی ترک کرنا یادداشت کے لیے بھی مفید قرار

تمباکو نوشی جتنی کم عمر میں ترک کی جائے، صحت کے لیے اس کے ممکنہ فوائد اتنے ہی زیادہ ہوسکتے ہیں

 سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں اور دل کی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے تاہم اسے ترک کرنے سے کئی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں جن میں یادداشت کا بہتر ہونا بھی شامل ہے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت کی کمزوری اور بھولنے کی شکایات کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم تمباکو نوشی ترک کرنے سے اس کے بعض منفی اثرات میں کمی آنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سگریٹ نوشی چھوڑنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ ماہرین نے بتادیا

اس تحقیق میں محققین نے 45 سے 59 سال کی عمر کے افراد میں سگریٹ نوشی چھوڑنے کے ممکنہ مثبت اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس عمر میں بھی سگریٹ نوشی ترک کرنا ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

تحقیق کے دوران شرکاء سے ان کی یادداشت میں آنے والی تبدیلیوں اور روزمرہ زندگی میں بھولنے سے متعلق مسائل کے بارے میں براہِ راست سوالات کیے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے یادداشت میں ہونے والی ابتدائی تبدیلیوں اور ممکنہ خطرے کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، یہ تمباکو نوشی اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق پر ہونے والی پہلی تحقیق نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی جتنی کم عمر میں ترک کی جائے، صحت کے لیے اس کے ممکنہ فوائد اتنے ہی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ محققین نے زور دیا کہ سگریٹ نوشی چھوڑنا نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے بھی اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

Exit mobile version