روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں اور سادہ سرگرمیاں ڈیمنشیا جیسے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتی ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے موسیقی سننے سے بزرگ افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک رہنا اور صحت بخش و متوازن غذا کا استعمال یادداشت کی کمزوری سے بچاؤ کے اہم طریقوں میں شامل ہیں۔
تحقیق میں موسیقی سننے کو بھی دماغی صحت بہتر رکھنے والی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی، میلبورن کے محققین نے 10 ہزار 800 سے زائد عمر رسیدہ افراد پر تحقیق کی جس میں موسیقی سننے اور اسے بجانے کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ غذائیں کھائیں، ڈیمنشیا سے تحفظ پائیں
نتائج سے معلوم ہوا کہ موسیقی سننے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 39 فیصد کم پایا گیا جو موسیقی نہیں سنتے تھے۔
محققین کے مطابق باقاعدگی سے موسیقی سننے والے بزرگ افراد کی مجموعی ذہنی صلاحیت، سوچنے سمجھنے کی استعداد اور یادداشت بھی بہتر پائی گئی۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور موناش یونیورسٹی کی آنرز اسٹوڈنٹ ایما جافا کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسیقی سے متعلق سرگرمیاں بزرگ افراد کی دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے ایک آسان اور قابل رسائی حکمت عملی ثابت ہوسکتی ہیں۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے موسیقی سننے اور ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی کے درمیان براہ راست وجہ اور اثر کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
