جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیا نیب چاہتی ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہم ملزم کو سزا سنا دیں؟
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نیب سکھرکے ملزم شاہد بشیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد نیب کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ہیں۔ ملزم کی پہلے ہی 2 سال 10 ماہ کے بعد ضمانت ہوئی۔
وکیل ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے الزام کی تمام رقم بھی بطور گارنٹی جمع کروا دی۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد ملزم کی گرفتاری کیوں ضروری ہے؟ اب نیب کو ملزم کی گرفتاری سے کیا حاصل ہوگا۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم معصوم تصورہوتا ہے، کیا نیب چاہتی ہے ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہم ملزم کو سزا سنا دیں؟
پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ ملزم ٹرائل میں تاخیر کاباعث بن رہا ہے جب کہ ملزم کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل دیگر ملزمان کے عدم گرفتاری کی وجہ سے نہیں چل رہا۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت وقت کی کمی کے باعث کل تک ملتوی کردی۔
