Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے تاحیات نااہلی کیس میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ ہم شارٹ فیصلہ جلد سنائیں گے۔ 

سپریم کورٹ میں سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی۔

لارجربنچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمدعلی مظہراور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔ عدالتی کارروائی کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا۔

سماعت کے آغازمیں جہانگیرترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل شروع کیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اورآئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

وکیل مخدوم علی خان کے دلائل

مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل نے جواب دیا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمرختم نہیں ہوتا، کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی، کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا سول کورٹ نااہلی کا ڈیکلیریشن دے سکتا ہے؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ سول کورٹ ایسا ڈیکلیریشن نہیں دے سکتا، کون سا سول کورٹ ہے جو کسی کو واجبات باقی ہونے پر کہہ دے یہ صادق و امین نہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ کیا قانون سازی سے ڈیکلیریشن پر نااہلی کی مدت متعین کی جا سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ آئین میں کورٹ آف لا کی بات ہے جس میں سول اور کریمنل دونوں عدالتیں آتی ہیں، کل جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا آرٹیکل 62اور63 الگ الگ رکھنے کی وجہ کیا تھی، اہلیت اورنااہلی کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔

جسٹس میاں محمد علی مظہرنے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

’’ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کررہے ہیں، ہم آئینی تاریخ کو، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کررہے ہیں، آئین پر جنرل ایوب کے دور سے تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں، کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدارہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟ آئین صرف وکلاء کیلئے عوام کیلئے ہے، عوام کو منطق سے سمجھائیں کہ نیب کا مجرم دس سال بعد اہل ہوسکتا ہے لیکن کاغذات نامزدگی میں غلطی کرنے والا نہیں، کوئی ہاتھ میں پہنی انگوٹھی ظاہرکرنا بھول جائے تو تاحیات نااہل ہوجائے گا، لوگوں کا آئین پراعتماد ختم نہیں کرنا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ میں آئین کو 18ویں ترمیم کے بعد سے دیکھ رہا ہوں، ہمیں تشریح کیلئے آئین میں دیئے ٹولز پر ہی انحصار کرنا ہے۔

’’آئین نے نہیں کہا تھا نااہلی تاحیات ہے یہ ہم نے کہا‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئین نے نہیں کہا تھا نااہلی تاحیات ہے یہ ہم نے کہا، پاکستان کی تاریخ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،ہم نے نااہلی سے متعلق کیس میں پبلک نوٹس جاری کیا مگر کوئی ایک سیاسی جماعت فریق نہیں بنی، پاکستان کی عوام کا کسی کو خیال نہیں ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ لیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قراردے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے، کیا سزا تاحیات ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے، آئین کو آسان کریں، آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفیانہ باتوں کی بجائے آسان بات کریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ  ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں؟

اٹارنی جنرل کا اسحاق خان خاکوانی کیس کا حوالہ

وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے اسحاق خان خاکوانی کیس کا حوالہ دیا، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کیس میں تو جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا تھا کہ ہمیں 62 ون ایف کو دیکھنا ہے۔ کیا انہوں نے دیکھا اس حوالے سے کوئی بات کی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں صرف اکثریتی فیصلے میں چارسولات فریم کیے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا تاحیات نااہلی سے متعلق سمیع اللہ بلوچ کیس سامنے نہیں تھا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں یہ بعد میں کیس سامنے آیا۔ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ  سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے حیرانی کا اظہارکیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگریہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔

عدالت نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نااہلی کا معیار ووٹرز پر چھوڑا گیا ہے۔ ووٹرز فیصلہ کرتے ہیں کہ انکے نمایندگی کون کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ووٹرزکے لیے اس اسحاق خان خاکوانی کیس میں گائیڈ لائن موجود ہیں۔ ووٹرزہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون ان کی نمائندگی کرسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ کورٹ آف لا سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پرسوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہوگا، عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے، عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لا کیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کرچکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کرسکتا ہے؟ سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کردیا۔

سمیع اللہ بلوچ کیس کے فیصلے پرسوالات

چیف جسٹس پاکستان نےجسٹس عمرعطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس کے فیصلے پرسوالات اٹھا دیے۔ کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا، سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجربنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نےاس پراپنا فیصلہ کیسے دیا؟ یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا۔

عدالت نے کہا کہ 1973 کا آئین بنانے والے زیادہ دانشمند تھے، بعد میں کچھ لوگ ٹہلتے ہوئے آئے کہ چلو اس میں کچھ اور ڈال دو،  انہوں نے کہا یہ لوگ سر نہ اٹھا لیں، انہوں نے سوچا ایسی چیزیں لاتے ہیں جس کو جب دل چاہا نااہل کردیں گے، کسی جگہ آئین میں اگر خاموشی رکھی گئی تو اس کی بھی وجہ ہو گی، جب میں کہتا ہوں میں نے کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرنا تو یہ بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ میں آج لکھ دوں کہ رکن اسمبلی ذہین ہونا چاہیے، لیکن رکن اسمبلی کے ذہین ہونے کا فیصلہ کون کرے گا ، صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں۔ مبشرحسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا۔ اج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پرآئے اورکہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہورہا ہوں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خوش آمدید، کب سے انتظارکررہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے۔

وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، پارلیمنٹ نے فرد واحد کے لیے ترمیم کر کے سپریم کورٹ کی 62 ون ایف کی تشریح غیر مؤثرکردی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم تو الیکشن ایکٹ نہیں اپنا فیصلہ دیکھ رہے ہیں، الیکشن ایکٹ کو چیلنج کریں تو اسے بھی دیکھ لیں گے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی، الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں۔ پاکستان تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی۔

جسٹس جمال خان مدوخیل نے شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیرکردی مہرباں آتے آتے جس پرشعیب شاہین نے جواب دیا کہ ہم توآج کل دیر ہی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے تاحیات نااہلی کیس میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ ہم شارٹ فیصلہ جلد سنائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version