نگران وفاقی کابینہ کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گزشتہ روز گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج نگران وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔
گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کے مطابق گھریلو اور کمرشل صارفین سب پر بوجھ بڑھے گا۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 100 روپے اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یواضافے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بڑی مقدار میں گیس استعمال کرنے والوں کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمتوں میں 900 روپے کا اضافہ متوقع ہے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر عملدرآمد یکم فروری سے متوقع ہے۔
ادھر نگران وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری کے ساتھ ساتھ یو این ڈی پی کے تحت افغانستان کنٹری آفس کی گاڑیوں کے اسپئیر پارٹس اور نئے ٹائر کابل منتقلی کی منظوری بھی دے دی۔
خیال رہے کہ صنعتی اورتجارتی تنظیموں نے گیس کی قیمت میں مزید 34 فیصد اضافہ مسترد کر دیا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ گیس میں اضافے سے بڑی تعداد میں صنعتیں بند ہوچکیں، گیس مزید منہگی کرنے سے ایکسپورٹ بھی ٹھپ ہوجائے گی۔
تنظیم سے وابستہ حکام کا مؤقف ہے کہ نومبر میں گیس 200 فی صد مہنگی کی جا چکی ہے جب کہ نیا اضافہ صنعت، ایکسپورٹ اور روزگار کے خلاف سازش ہے ،، دوسرے سیکٹرز کی چوری کراس سبسڈی کی صورت میں اُن پر نہ ڈالی جائے۔
