اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کا کردار تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار دونوں ممالک کے وفود براہ راست مذاکرات کے لیے پاکستان تشریف لائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران میں آج تک جو بھی ملاقاتیں ہوئیں، وہ بالواسطہ تھیں لیکن پہلی بار دونوں ملکوں کے وفود ہماری درخواست پر پاکستان آئے۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی دعوت قبول کی۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات سے قبل ہی دونوں اطراف نے دو ہفتے کے لیے سیز فائر کردیا تھا جو آج بھی قائم ہے۔ اللہ نے پاکستان کو ثالثی اور امن کا موقع دیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ پاکستان کی عزت ہے جو 24 کروڑ عوام کی عزت ہے۔
وزیراعظم نے اس عظیم کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم راتوں کو جاگے، پوری رات کام کرتے رہے۔ فیلڈ مارشل کی حکمت سے یہ جنگ بند ہوئی اور سیز فائر ہوا۔
انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ اسلام آباد میں دونوں وفود کے درمیان 21 گھنٹے گفتگو جاری رہی اور وہ خود اس کا گواہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ بعض لمحات ایسے تھے کہ بات ٹوٹتے ٹوٹتے جڑتی رہی، یہ اللہ کا کرم ہے۔ تھوڑے بہت معاملات اب بھی اٹکے ہوئے ہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ جاپان کی وزیراعظم نے فون کرکے پاکستان کے اہم کردار پر مبارکباد دی جب کہ یورپ کے کئی سربراہان نے بھی پاکستان کی کاوشوں کو دلی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امن بات چیت بذات خود ایک تاریخی واقعہ ہے۔
واضح رہے کہ 47 سال بعد پہلی بار امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود نے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملاقات کی جسے پوری دنیا نے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
