کوہاٹ میں پرانی پولیس لائن کی مسجد میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
20 سے زائد زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ اسپتالوں میں اضافی طبی عملہ طلب کرلیا گیا ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا، ریسکیو آپریشن اور مزید زخمیوں کی تلاش جاری ہے۔
دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سے متعلق حتمی تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
دھماکے کا نوٹس
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانے پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی ہے تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین کر رہے ہیں جبکہ افغانی خوارج اس حملے میں ملوث ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اب تک 25 کے قریب افراد زخمی ہیں جبکہ دھماکے کے بعد مسلح دہشت گردوں کے ساتھ پولیس اور فوج کے دستے کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
آئی جی پی نے دھماکے میں زخمیوں کو بروقت بہترین طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت دی اور کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے، بزدلانہ حملے حوصلہ پست نہیں کر سکتے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا عبرتناک انجام ہوگا۔
