اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ بندی اور تمام طبقات کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے جب کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بچوں، بزرگوں اور شہریوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا اور متاثرہ علاقوں کے عوام کو سہولیات اور ترقیاتی منصوبے فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی خراب صورت حال کی بنیاد پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اسپیکر، وزیراعلیٰ اور منتخب نمائندوں کی بے توقیری پارلیمنٹ کی شدید بے حرمتی ہے۔
علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سخت جرم ہے۔ ظلم ہر جگہ اور ہر روپ میں قابل مذمت ہے اور مظلوم کی مدد کرنا ہمارا دینی و اخلاقی فرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاوجہ تشدد اور زیادتی نوجوان نسل کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ جبر اور زور زبردستی سے امن قائم نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے بدامنی اور مایوسی مزید پھیلے گی۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ غلطی کو مسلسل آگے بڑھانے کے بجائے میز پر بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جائیں۔ بارڈر پار پشتونوں سے رشتے داریوں اور علاقائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
