سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 180 دن کے اندر عوام کو حالات بہتر ہوتے نظر آئیں گے دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کرنے والی سیاسی جماعت کو دھول چٹا دیں گے اور سیاسی، عسکری و معاشی دہشت گردی میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا کر انہیں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے دوستوں کو مشورہ ہے کہ اپنی سیاسی جماعت بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی لیڈر کے پاس اپنے گھر کے ووٹ بھی نہیں ہیں، جبکہ دہشت گردوں کے ساتھ کون بات کر رہا تھا، اس بارے میں سب علم ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ صوبے کے 8 وزرا اسلام آباد میں ان کے پاس بیٹھے تھے، کچھ پکڑے جائیں گے اور باقی بھی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ صوبے ٹوٹنے جا رہے ہیں اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ پاکستان اور اس کے صوبے کسی کی جاگیر نہیں ہیں۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا گورنر راج سے آصف علی زرداری کی صوبوں کی مخالفت کی غلطی کا ازالہ ہوگیا؟ اس پر فیصل واوڈا نے براہ راست جواب دینے کے بجائے سیاسی معاملات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کہیں نہیں جا رہی، تاہم جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والوں کی حقیقت سامنے آئے گی۔ نئے صوبوں اور نئی آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بھی انہوں نے واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ کچھ باتیں وقت آنے پر سامنے آئیں گی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال کی حکمرانی کی کارکردگی دیکھ لی جائے تو تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے۔ اب عوام جھوٹے دعووں اور نعروں میں نہیں آئیں گے اور محض کسی کا نعرہ لگا کر اس کے پیچھے چلنے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں کارکردگی چاہیے اور ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کارکردگی میں کوتاہی نظر آئی تو ان سے بہتر لوگ لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور ان کے عوام کے لیے کیا کیا جائے گا، یہ بھی بتایا جائے گا اور پاکستان کی ترقی کے نتائج مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کو بھی دکھائے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں۔
ایک صحافی نے پوچھا کہ تین ڈالر کمانے والوں کے لیے کون سا مرحلہ آئے گا؟ فیصل واوڈا نے اسے اچھا سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارکردگی دکھائی جائے گی اور عوام کو ڈیلیور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی دکھائی جائے تو بہت سے معاملات خود حل ہوجائیں گے۔ ہمیں پاکستان کی ایسی کہانی اپنے بچوں کو سنانی ہے جو انہیں نئی سمت دے، اور بچوں کو موبائل فون کے ذریعے ملک کی نئی شروعات کی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے نہ دھوکے سے سہیل آفریدی کو بلایا اور نہ انہیں گرفتار کروایا۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے متعلق ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا یہ رہنما زندہ لاشیں ہیں، انہوں نے کہا کہ آپ ایک کپ چائے پر مجھ سے سب کچھ نکلوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ رہ جائیں گے، کچھ پکڑے جائیں گے اور کچھ بہہ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 400 افراد کو لے جاکر طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ پاکستان کے عام شہریوں، جوانوں اور اہلکاروں سمیت ساڑھے 7 ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول، ایک ایسا ذہن بھی موجود ہے جو پاکستان کا جھنڈا اٹھانے اور قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ انہوں نے قومی پرچم اور ترانے کے مخالفین کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام صوبے کی سابقہ حکومت کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ شہدا کے اہل خانہ کے لیے فنڈز نہ ہونے اور حکمرانوں کی عیاشیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والوں اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور پاکستان کی ترقی کے لیے کارکردگی کو ترجیح دینا ہوگی۔
