کراچی میں آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا جہاں مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی۔
پولیس نے مظاہرین کو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے روکنے کے لیے کارروائی کی اور انہیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
پولیس نے اساتذہ کمیٹی کے مرکزی صدر غلام رسول مہر سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کارروائی کے بعد مظاہرین واپس کراچی پریس کلب پہنچ گئے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کو ان کی ابتدائی تقرری کی تاریخ سے مستقل کیا جائے جبکہ اساتذہ کے تبادلوں کا اختیار سندھ سیکریٹریٹ کے بجائے ضلعی سطح پر بحال کیا جائے۔
اساتذہ نے کلسٹر حب پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے گریڈز اپ گریڈ نہیں کیے گئے۔
مظاہرین نے کلسٹر حب پالیسی کے تحت چھوٹے سرکاری اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے کے فیصلے کی بھی مخالفت کی۔
اساتذہ کے احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ایم آر کیانی روڈ کے دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔ فوارہ چوک، دین محمد وفائی روڈ اور سرور شہید روڈ پر بھی ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی جبکہ ٹریفک کو ایوانِ صدر روڈ اور زینب مارکیٹ کی جانب موڑ دیا گیا۔
