Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ نے شکست قبول کرتے ہوئے ناکامی کی وجہ بھی بتا دی

امریکی صدر نے مستقبل میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا

امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کی برتری کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج قبول کرنے کا اعلان کردیا، ساتھ ہی ریپبلکنز کی کمزور کارکردگی کی ایک وجہ ایران تنازع اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کو بھی قرار دے دیا۔

امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو برتری حاصل ہے، جس سے ریپبلکنز کے لیے سیاسی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود انتخابی بیلٹ پر موجود نہیں تھے، ورنہ ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے۔

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران تنازع بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوا ہے۔ ان کے مطابق ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی متاثر ہونے کی ایک وجہ ایران کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورت حال ہے، جبکہ عوام شاید پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے والے فوری معاشی اثرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

امریکی صدر نے مستقبل میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امیگریشن سمیت بعض معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوسکتا ہے، تاہم ڈیموکریٹس کی جانب سے ناقابل قبول تجاویز سامنے آئیں تو وہ انہیں ویٹو کردیں گے۔

انہوں نے کابینہ میں ردوبدل کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال انہیں کابینہ میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

دوسری جانب ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس کے 190 اور ریپبلکنز کے 110 امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔

سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے، جہاں انہیں 17 نشستوں پر سبقت کے بعد مجموعی طور پر 51 نشستوں کی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز 8 نشستوں پر برتری کے ساتھ 39 نشستوں پر آگے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version