Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی چیٹ بوٹس سے حساس ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ، نیشنل سرٹ کی اہم ایڈوائزری جاری

منظور شدہ اے آئی ٹولز، ماڈلز اور پلیٹ فارمز کی باقاعدہ فہرست مرتب کرنی چاہیے

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے جنریٹو اے آئی کے محفوظ استعمال کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر مجاز اے آئی چیٹ بوٹس اور تھرڈ پارٹی سروسز کے استعمال سے حساس معلومات، تنظیمی ڈیٹا، سورس کوڈ اور اسناد افشا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

نیشنل سرٹ کے مطابق شیڈو اے آئی، پرامپٹ انجیکشن، غیر محفوظ اے آئی کوڈ اور اے آئی ماڈلز و تھرڈ پارٹی سروسز سے جڑے دیگر خطرات سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔

ایڈوائزری میں اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جنریٹو اے آئی کے قابل قبول استعمال کی پالیسی لازمی نافذ کی جائے اور سرکاری یا حساس معلومات عوامی یا غیر منظور شدہ اے آئی پلیٹ فارمز پر جمع نہ کرائی جائیں۔

نیشنل سرٹ نے اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اہم نتائج کا انسانی ماہرین سے جائزہ لازمی قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے اداروں کو اے آئی پلیٹ فارمز پر ڈیٹا لاس پریوینشن اور مؤثر مانیٹرنگ کنٹرولز نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق اداروں کو منظور شدہ اے آئی ٹولز، ماڈلز اور پلیٹ فارمز کی باقاعدہ فہرست مرتب کرنی چاہیے جبکہ اے آئی گورننس کو نِسٹ اور او ڈبلیو اے ایس پی کے عالمی فریم ورکس سے ہم آہنگ کیا جائے۔

نیشنل سرٹ نے اے آئی سے متعلق سیکیورٹی واقعات کی فوری روک تھام اور شواہد محفوظ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ حساس ڈیٹا لیک، پرامپٹ انجیکشن اور اے آئی سپلائی چین حملوں سمیت سائبر سیکیورٹی واقعات نیشنل سرٹ کے پورٹل، ای میل یا یو اے این کے ذریعے رپورٹ کیے جاسکیں گے۔

Exit mobile version