روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ڈرونز اور میزائلوں سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کم از کم 18 افراد کو ہلاک اور 90 سے زائد کو زخمی کر دیا جبکہ شہر کے متعدد رہائشی علاقے تباہی کا منظر پیش کرنے لگے۔
کیف کے میئر وٹالی کلچکو نے حملے کو دارالحکومت پر ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے جمعہ کو یومِ سوگ کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق حملے میں ایک ایمبولینس اسٹیشن سمیت کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق زخمیوں میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ جنوبی مشرقی کیف میں ایک بلند رہائشی عمارت کا بڑا حصہ دھماکے سے تباہ ہو گیا جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ایک 15 سالہ بچی اور اس کے اہل خانہ کی تلاش بھی جاری ہے۔
حملوں کے باعث کئی محلوں کو خالی کرا لیا گیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے چند گھنٹے قبل خبردار کیا تھا کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کریملن کے ترجمان دی متری پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس اپنے اہداف کے حصول کے لیے کیف پر دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔
ادھر یوکرین نے روسی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ماسکو نے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور بے گناہ شہریوں کو قتل کیا، جبکہ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور اور اپنا دفاع کرنے والے ملک کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔



















