تہران: ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ یا تدفین کی تقریبات کے دوران ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا “سخت جواب” دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مخالفین کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل اس کے نتائج پر غور کریں۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی جس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نماز جنازہ کے بعد جسد خاکی کو تہران سے قم، پھر نجف اور کربلا لے جانے کے بعد دوبارہ ایران منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنازے کے جلوس میں بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت متوقع ہے جبکہ تہران میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں تعزیتی تقریبات جاری ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات ایران اور امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قوم اتحاد، استقامت اور عزم کے ساتھ اس مرحلے سے گزرے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ نماز جنازہ اور تعزیتی تقریبات میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
