Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، ترکیہ اور سعودی فوجی سربراہان کا اجلاس طلب

معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے فوجی سربراہان حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی مدد کے طریقہ کار پر غور کے لیے اجلاس کریں گے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بلایا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت نیویارک میں وزیراعظم کے نائب اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ تینوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے ادارہ جاتی ڈھانچے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف سعودی عرب کو معاہدے کے تحت معاونت فراہم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم سعودی وزارت خارجہ نے فوجی سربراہان کے اجلاس کی تاریخ یا ممکنہ تعاون کی نوعیت نہیں بتائی۔

ملاقات میں تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مملکت پر میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے طائف اور ینبع کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتاروغلو سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ سعودی اور پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔

تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے، کشیدگی میں کمی اور جاری بحرانوں کے پرامن حل کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

متعلقہ خبریں