Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شی جن پنگ کی ٹرمپ سے ملاقات؛ چین امریکا تعلقات کس سمت جارہے ہیں؟

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انسانی کنٹرول برقرار رکھنا ضروری ہے، چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں چین اور امریکا کے درمیان تعلقات، تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان، مشرق وسطیٰ، یوکرین اور کوریا سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ گزشتہ نصف سال سے بھی کم عرصے میں چین اور امریکا کے دونوں سربراہان مملکت نے ایک دوسرے کے ممالک کے دورے کیے ہیں جو چین امریکا تعلقات کی تاریخ میں غیر معمولی ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ وہ اور صدر ٹرمپ مختلف ذرائع سے رابطے میں رہے ہیں اور مشترکہ طور پر چین امریکا تعلقات کی سمت طے کررہے ہیں۔

چینی صدر کے مطابق رواں سال مئی میں انہوں نے اور صدر ٹرمپ نے تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین امریکا تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کو اس تصور کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے اور تعاون کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے معتدل مسابقت، اختلافات کے قابل انتظام حل اور امن کی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔

شی جن پنگ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک عملی تعاون کے ذریعے مکمل تعاون، مثبت مسابقت کے ذریعے باہمی فائدہ اور مشترکہ نکات تلاش کرکے اختلافات کے حل کی کوشش کرسکتے ہیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد میں اضافہ کرکے تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم تعلقات قائم کرسکتے ہیں جو دونوں ممالک اور دنیا کے عوام کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں گے۔

شی جن پنگ نے کہا دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے مشاورت کا نیا دور مکمل کرکے نئے مشترکہ انتظامات طے کیے ہیں جو دونوں ممالک کی صنعتوں، عوام اور عالمی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعاون یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ عمل ہے، چین امریکا اقتصادی و تجارتی تعلقات کے استحکام کے لیے تعاون کی فہرست بڑھانے کے ساتھ مسائل کی فہرست بھی کم کرنا ہوگی۔

چینی صدر نے کہا کہ اگر دونوں ممالک برابری، احترام اور باہمی مفاد کے اصولوں کو برقرار رکھیں تو مسائل کے حل کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے شی جن پنگ کہتے ہیں کہ چین اور امریکا اس شعبے میں مسابقت کے ساتھ ساتھ تعاون بھی کرسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے دونوں بڑے ممالک کو ایک دوسرے سے محتاط رہنے کے بجائے اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کے خطرات اور فوائد پر بات چیت جاری رکھنے اور اس کے غلط یا ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

چینی صدر نے کہا مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انسانی کنٹرول برقرار رکھنا ضروری ہے اور اسے انسانوں کی ترقی اور فلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

تائیوان کے معاملے پر شی جن پنگ نے کہا کہ قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے چین کا مؤقف واضح ہے جب کہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی مخالفت کے درست مؤقف پر قائم رہے گا اور تائیوان کے معاملے کو احتیاط کے ساتھ دیکھے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کو ایک شاندار دورہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا دونوں بڑی طاقتیں ہیں اور وہ صدر شی جن پنگ کے اچھے دوست ہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی اور مسلسل رابطہ رہا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی اور شی جن پنگ کی قیادت میں چین امریکا تعلقات یقینی طور پر اچھے رہیں گے۔ دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے حالیہ مشاورت میں نئی پیش رفت حاصل کی ہے، دونوں فریقوں کو بات چیت جاری رکھتے ہوئے مزید بہتر معاہدوں تک پہنچنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ انسانیت کے مستقبل سے متعلق معاملہ ہے اور امریکا و چین کو اس معاملے پر بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔

ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ، یوکرین اور کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پی ای سی) کے اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی کے حوالے سے ایک دوسرے کی حمایت پر بھی اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version