Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا جس کے بعد وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔

ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہے، جس کے بعد وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔

ویٹیکن نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوپ شہریوں کی جانب سے جمہوری عمل میں حصہ لینے کو اپنا حق اور ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

دی نیوز نیشنل کی رپورٹ کے مطابق شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم جن کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ ہے، انہوں نے اپنی آبائی ریاست الینوائے میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالا۔

ول کاؤنٹی کے انتخابی دفتر کے مطابق پوپ کی جانب سے غیر حاضر ووٹر کی حیثیت سے ووٹ ڈالنے کی درخواست منظور کی گئی تھی۔ ان کا بیلٹ پیپر الینوائے میں رجسٹرڈ پتے نیو لینوکس بھیجا گیا جہاں سے اسے ویٹیکن سٹی منتقل کیا گیا۔

71 سالہ پوپ لیو چہاردہم ماضی میں پیرو میں مشنری اور بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے بھی انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

پوپ منتخب ہونے کے باوجود ان کی امریکی شہریت برقرار ہے جس کی وجہ سے وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ انہیں 2025 میں رومن کیتھولک چرچ کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق پوپ لیو اس سے قبل بھی امریکا میں قیام کے دوران مختلف انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ ویٹیکن کے مطابق پیرو میں قیام کے دوران بھی انہوں نے اہلیت کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لیا تھا۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے ساتھ سلوک سمیت مختلف معاملات پر پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم ویٹیکن نے یہ واضح نہیں کیا کہ پوپ نے امریکی انتخابات میں کن امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version