Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی، ہیکرز نے اربوں روپے چرالیے

اس واقعے کا مجموعی مالیاتی اثر تقریباً 6.3 ارب ڈالر ہوسکتا ہے

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس میں 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے چوری ہونے کے واقعے نے عالمی کرپٹو مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

بائنانس نے سیکیورٹی مسئلے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ اثاثوں میں سے 2.5 ارب ڈالر سے زائد منجمد کیے جا چکے ہیں جبکہ کمپنی نے اپنے پلیٹ فارم پر تمام تر ڈیپازٹس اور رقم نکلوانے کے عمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔

اس واقعے کا مجموعی مالیاتی اثر تقریباً 6.3 ارب ڈالر ہوسکتا ہے جسے کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

بی بی سی اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے بائنانس کے انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹس کو نشانہ بنا کر محض 15 منٹ کے اندر 8 مختلف بلاک چین نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے منتقل کئے۔

بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں نے چوری ہونے والی رقم کا تخمینہ 5.91 ارب ڈالر جبکہ ٹی آر ایم لیبز نے 6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان قرار دیتے ہوئے اسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بینک ڈکیتی قرار دیا ہے۔

یہ حملہ فروری 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے ہونے والی 1.5 ارب ڈالر کی چوری سے چار گنا بڑا ہے، جس کا شبہ ابتدائی انٹیلی جنس کے مطابق شمالی کوریا کے ہیکرز پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سکیورٹی نقب زنی کے بعد بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ اور کمپنی کی شریک بانی یی ہی نے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ تمام صارفین کے فنڈز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات کو بائناس اپنے ہنگامی انشورنس فنڈ کے ذریعے خود پورا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس ہولناک ہیکنگ کی خبر کے باعث کرپٹو مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہوئی جہاں بٹ کوائن کی قیمت 5 فیصد گر کر 78,000 ڈالر سے نیچے آ گئی جبکہ بائناس کا اپنا ٹوکن ڈی این بی 10 فیصد تک گر گیا ہے۔

Exit mobile version