عراق کے وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح کیا کہ بغداد اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے گی۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق علی الزیدی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورت حال اور خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران عراقی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ملکی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں کے فروغ اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
علی الزیدی نے ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور مسائل کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرامن راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مفادات کے معاملات پر مسلسل رابطے اور باہمی مشاورت برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ واشنگٹن اور بغداد کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔
دوسری جانب عراقی وزیراعظم نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی تھامس بارک سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات، مستقبل میں شراکت داری کے امکانات اور اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال، علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔ دونوں فریقین نے بحرانوں پر قابو پانے اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔
