امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کسی صورت نیو کلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران کے تمام اقدامات امریکی منظوری سے ہو رہے ہیں ایران امریکا کی منظوری کے بغیر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی اقدام نہیں کررہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں سوال کے جواب میں دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔ امریکا کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے یا معاملہ ختم کر دیا جائے۔
اس موقع پر امریکی صدر نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی شاندار کام کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران متعدد اہم منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بڑی کمپنیاں امریکا میں اپنے کارخانے قائم کر رہی ہیں جبکہ ٹیرف سے بچنے کے لیے کمپنیوں کو اپنی مصنوعات امریکا میں ہی تیار کرنا ہوں گی۔
امریکا میں انتخابی نظام پر تنقید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملک میں انتخابات شفاف نہیں ہیں۔ عوام کو انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے افراد کی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن اس وقت تک شہر، ریاستیں اور ملک نقصان اٹھا چکے ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے نیویارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی کے میئرز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تینوں بڑے شہروں میں سخت پالیسیوں کے باعث عوام پریشان ہیں، جبکہ عوامی ناراضی کے بعد تبدیلی ضرور آئے گی۔
