ایران کی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کی اہم مشترکہ فوجی مشقوں کے جواب میں اپنے ایک خفیہ زیر زمین ایئربیس کی وڈیو جاری کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کی اہم مشترکہ مشقوں کے جواب میں اپنی فضائی فوجی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک بڑے اور خفیہ زیر زمین ائیر بیس کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
ایران کی فوج نے فضا سے فائر کرنے والے ایک نئے میزائل کا بھی اعلان کیا جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دشمن پر طویل فاصلے تک حملہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پابندیوں کے باوجود ترقّی کرکے آگے نکل گیا
منگل کو سرکاری ٹیلی ویژن نے اڈے پر مختلف قسم کے لڑاکا طیاروں اور فوجی ڈرونز کی فوٹیج دکھائی، جنہیں “ایگل 44” کا نام دیا گیا، جس کا مقام نامعلوم ہے۔
سرکاری ٹی وی کے اینکر نے کہا کہ اڈے کو پہاڑوں میں کھودا گیا ہے تاکہ اسے امریکی اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے گرائے جانے والے گولہ بارود سے بچایا جا سکے۔
اس ویڈیو کی فلمبندی کے دوران اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی تھی۔
فیلم/ اولین پایگاه «زیرزمینی» نیروی هوایی ارتش با نام «عقاب۴۴»
🔹این نخستین پایگاه هوایی «زیرزمینی» ارتش جمهوری اسلامی ایران که رسانهای میشود.https://t.co/0udat3NJrM@Tasnim_military pic.twitter.com/O5qTfeJmCy
— اخبار امنیتی- نظامی (@Tasnim_military) February 7, 2023
واضح رہے کہ یہ ویڈیو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اپنی اب تک کی سب سے بڑی مشترکہ مشقوں کے انعقاد کے دو ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد جاری ہوئی۔
ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس مشق میں بحری جہازوں اور توپ خانے کے نظام کے علاوہ ہزاروں فوجیوں اور درجنوں طیاروں کا استعمال کیا گیا تھا.
یہ بھی پڑھیں : ایرانی بحریہ کے جہازوں اور آبدوز کا کراچی بندرگاہ کا دورہ
یہ مشترکہ مشق ایران کی جانب سے اپنی فوجی تیاری کو ظاہر کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مشقوں کے انعقاد کے چند دن بعد ہوئی تھی۔
“ایران کے سرکاری ٹی وی کے اینکر نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاید انہیں ایران کا پیغام صحیح طور پر نہیں ملا تھا۔ ایران اب ایک بار پھر پیغام بھیج رہا ہے، یہ پہاڑوں کے اندر سے گڑگڑانے کی آواز ہے.
سرکاری ٹیلی ویژن نے دن اور رات میں فضائی مشق کرنے کے لیے لڑاکا طیاروں کے اڑان بھرنے کی فوٹیج دکھائی اور مزید کہا کہ ان کارروائیوں کا پیغام یہ ہے کہ اب ہم خطے میں بڑی فضائی طاقت ہیں۔




















