Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا خاندان شہید

الجزیرہ نیوز کے ایک بیورو چیف کے اہل خانہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں بیورو چیف وائل الدہدوح کی اہلیہ، نوعمر بیٹا اور جوان بیٹی بدھ کے روز وسطی غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں شہید ہو گئے۔

بعد میں بتایا گیا کہ ان کے پوتے کی بھی موت ہو گئی تھی۔

Wael Al-Dahdouh: Al Jazeera reporter's family killed in Gaza strike - BBC News

الجزیرہ نے ہلاکتوں اور اسرائیل کے اندھا دھند حملے کی مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی کارروائی کے باعث جنوب کی جانب منتقل ہونے کی وارننگ کے بعد شمالی غزہ سے بے گھر ہونے کے بعد الدہدوح کا خاندان وسطی غزہ کے نصرات کیمپ میں ایک گھر میں رہ رہا تھا۔

الجزیرہ کے مطابق نامہ بیورو چیف کا 15 سالہ محمود ہائی اسکول میں آخری سال میں تھا جبکہ اس کی بیٹی شام کی عمر7 سال اور اس کا پوتا آدم 18 ماہ کا تھا۔

Israeli strike kills Al Jazeera reporter's family in Gaza

بتایا جاتا ہے کہ خاندان کے دیگر افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں لیکن کچھ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ زندہ بچ گئے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے حماس کو نشانہ بنا کر اس علاقے میں حملہ کیا ہے جہاں الدہدوح کے اہل خانہ شہید ہوئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں صحافیوں اور ان کے اہل خانہ سمیت شہریوں کے جانی نقصان کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی ڈی ایف کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر کا کہنا تھا کہ ‘کوئی بھی جانی نقصان ایک المیہ ہے۔’

3 of Gaza journalist's family killed in Israeli airstrike: Report - India Today

آن لائن پوسٹ کی جانے والی فوٹیج میں الدہدوح کو ہسپتال میں روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، وہ اپنی سات سالہ بیٹی کی لاش کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے نوعمر بیٹے کی لاش پر گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے انگریزی ترجمے میں بیورو چیف نے کہا کہ غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

الدہدوح غزہ میں الجزیرہ عربی کے بیورو چیف ہیں اور کئی سالوں تک نیوز ایجنسی کے لیے کام کر چکے ہیں۔

Israeli strike kills Al Jazeera reporter's family in Gaza – Middle East Monitor

الجزیرہ نے کہا کہ اسے غزہ میں اپنے ساتھیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے بارے میں گہری تشویش ہے اور وہ اسرائیلی حکام کو ان کی سلامتی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اسرائیل اور غزہ کے درمیان حالیہ تنازعمیں اب تک کم از کم 24 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے باعث سات ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے علاقے میں ایندھن، بجلی اور زیادہ تر پانی کی فراہمی منقطع کر دی ہے اور امداد کی ایک چھوٹی سی مقدار اب مصر کے ذریعے پہنچ رہی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں