اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ کے بعد غزہ کی سکیورٹی سنبھالنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ غزہ کو عسکریت سے پاک کرنے کے لیے صرف ایک ہی فوج یہ کارروائی دیکھ سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج ہے جب کہ حماس کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج ہی غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول جاری رکھے گی۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے کسی غیر ملکی فورس کو یہ ذمہ داری سونپنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد غزہ کاکنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے، تنازع ختم ہونے کے بعد اسے ‘فوج کے بغیر ملک’ بنانا چاہیے۔
اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کے دوران حماس نے خواتین کی عصمت دری کی اور ان کی لاشوں کو مسخ کیا۔ حماس کے دہشت گرد خواتین اور لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ درد اور تکلیف پہنچا رہے ہیں اور پھر انہیں قتل کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں انسانیت سوز اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جس میں بچوں کی تعداد 7 ہزار سے زائد ہے جب کہ شہداء میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 43 ہزار 600 سے افراد زخمی ہوچکے ہیں اور تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے 7 ہزار 600 سے زائد افراد اب بھی دبے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 150 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور اسرائیلی فوج نے خان یونس شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔
علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حماس جنگ شروع ہونے سے اب تک سوا لاکھ فلسطینی سانس کی بیماری، 86 ہزار ہیضہ اور 1200 یرقان میں مبتلا ہوچکے ہیں۔




















