Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بنگلادیشی عدالت نے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو 6 ماہ قید کی سزا سنادی

بنگلہ دیش کی عدالت نے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو لیبر قانون کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گرامین بینک کے سربراہ محمد یونس اور ان کی ٹیلی کام کمپنی کے دیگر 3 عیدہدار لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں جس پر عدالت کی جانب سے انہیں سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم چاروں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا اور بعد ازاں عدالت میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جسے عدالت نے مںظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی اور اب ملزمان کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

دوسری جانب محمد یونس کے سپورٹرز نے اس کیس کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

پروسیکیوٹر خورشید عالم خان نے بتایا کہ عدالت نے ضمانت دے دی ہے اور عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے ایک مہینہ دے دیا ہے۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کے وکیل خواجہ تنویر کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے تاکہ محمد یونس کو نشانہ بنایا جائے۔

بعد ازاں ایک بیان میں محمد یونس کا کہنا تھا کہ میں بنگلادیشی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمہوریت کے لیے، اس ناانصافی کے خلاف اور ہر شہری کے انسانی حقوق کے لیے  یک زبان ہوکر کھڑے ہوں۔

انسانی حقوق کے ادارے نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جو 7 جنوری کو ہونے والے انتخابات میں جیت کر چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ان پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا الزام دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی شہرت یافتہ معیشت دان محمد یونس کو ’’غریبوں کا بینکر‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے 100 ڈالر قرض مہم چلائی تھی جس پر محمد یونس اور ان کے بینک گرامین کو 2006 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں