Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسرائیل کے خلاف مقدمہ، انڈونیشیا کی عوام نے جنوبی افریقہ کی حمایت کر دی

انڈونیشیا کے عوام نے عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی نسل کشی کے مقدمے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کی متعدد سول سوسائٹی تنظیمیں اور کارکن جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کیے گئے ایک مقدمے کی حمایت میں سامنے آئے ہیں جس میں اسرائیل پر غزہ میں ‘نسل کشی کی کارروائیوں’ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں جمعے کے روز شروع کیے گئے مقدمے میں جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور مزید ملوث ہونے کا خطرہ ہے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر معطل کرنے کا عبوری حکم جاری کرے۔ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں اس درخواست پر سماعت کا امکان ہے۔

اگرچہ اس کیس کو آگے بڑھنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں ، لیکن ہفتوں کے اندر ایک عبوری حکم جاری کیا جاسکتا ہے۔

پریٹوریا اس معاملے کو نسل کشی کنونشن کے تحت لا سکتا ہے کیونکہ وہ اور تل ابیب دونوں اس پر دستخط کنندہ ہیں۔

جنوبی افریقی نسلی امتیاز کے خلاف اپنی جدوجہد کا موازنہ فلسطینی کاز سے کرتے ہیں۔ اسی طرح انڈونیشیا بھی فلسطین کا پرزور حامی ہے اور اس کے عوام اور حکومت فلسطینی ریاست کو ملک کے آئین کے تحت لازمی قرار دیتے ہیں، جس میں استعمار کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میڈیکل ایمرجنسی ریسکیو کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سربینی مراد نے عرب میڈیا کو بتایا کہ ہم اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں گھسیٹنے کے جنوبی افریقہ کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

ایم ای آر-سی جکارتہ میں قائم تنظیم ہے جس نے شمالی غزہ میں انڈونیشیا اسپتال کی ترقی کے لئے مالی اعانت فراہم کی ہے۔

غزہ میں اکتوبر کے اوائل سے اب تک تقریبا 22 ہزار فلسطینی شہید اور 57 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں