ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر نے ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے حوالے سے متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ایرانی حکام کےمطابق ریسکیو ٹیمیں ابھی تک صدرابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر تک نہیں پہنچ سکی ہیں اور ہیلی کاپٹر کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر کے حادثے کا شکار ہیلی کاپٹرکو تلاش کرلیا گیا ہے لیکن ایرانی ہلال احمر نے مقامی میڈیا کی خبر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد کے لیے یورپی یونین کی سیٹلائٹ میپنگ سروس کو بھی فعال کیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی آذربائیجان کے ساتھ ایرانی سرحد پر ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے جب لینڈنگ کے دوران ورزقان کے علاقے میں ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، جس کے بعد ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی صدرکے ساتھ وزیرخارجہ حسین عامرسمیت دیگرحکام بھی موجود تھے تاہم، فی الحال ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ میں کسی جانی نقصان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ایران کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ابراہیم ریئسی کے قافلے میں شامل ایک ہیلی کاپٹر نے مشکل حالات میں لینڈنگ کی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ ریسکیو حکام ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایرانی ہلال احمر نے مزید سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمز جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دیں
ایرانی بلال احمر کے مطابق مشرقی اذربائجان صوبے میں جائے حادثہ کی اطراف سرچ اینڈ ریسکیو اپریشن تیز کر دیا گیا ہے
ایران کے دیگر صوبوں سے بھی ریپڈ رسپانس اور ریسکیو ٹیمز کو طلب کر لیا گیا
مجموعی طور پر 40 ٹیمز جائے حادثہ کی جانب روانہ کی جا چکی ہیں
ایرانی ہلال احمر کے مطابق دشوار گزار اور کٹھن راستوں کے ساتھ انتہائی خراب موسم کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات ہیں۔
کریش سائٹ کا پتہ چلانے کے لیے ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تسنیم نیوز کے مطابق ’ہیلی کاپٹر میں سوار صدر کے کچھ ساتھی سینٹرل ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق ’اس قافلے میں تین ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے دو وزرا اور عہدیداروں کو لے کر جا رہے تھے اور وہ بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے۔



















